مسافر طیارے کو لیزر کا نشانہ بنانے پر امریکی شہری کو 2 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ریاست وسکونسن کی وفاقی عدالت نے جمعہ کو ایک شخص کو مسافر طیارے کو لیزر کو نشانہ بنانے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنائی۔

استغاثہ کے مطابق 2021 میں اس نے ڈیلٹا ائیر لائن کے پائلٹوں کی لینڈنگ کی کوششوں میں خلل ڈالا اور مسافروں کو "ناقابل یقین خطرے" میں ڈال دیا۔

منی سوٹا کے 43 سالہ جیمز لنک نے جنوری میں اعتراف جرم کیا تھا۔

شمالی کیرولائنا سے منیاپولس جانے والی ڈیلٹا فلائٹ کے پائلٹوں نے شکایت کی تھی کہ ان کے کاک پٹ کو تین بار چمکدار نیلے رنگ کے لیزر سے روشن کیا گیا جب کہ وہ مغرب میں 9,000 فٹ (2,700 میٹر) کی بلندی پر تھے۔

اس وقت، ایئر ٹریفک کنٹرول نے انہیں رن وے اور راستہ تبدیل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

استغاثہ نے ایک بیان میں کہا، "لیزر اسٹرائیکس نے کاک پٹ میں بڑا خلفشار پیدا کیا تھا کیونکہ وہ اپنے آئی پیڈ کو دیکھنے کے قابل نہیں رہے۔"

تاہم پائلٹ بالآخر جہاز کو بحفاظت زمین پر اتارنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد کئی گھنٹوں تک جہاز کے کپتان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر رہی۔

2021 میں امریکہ میں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں پر متعدد لیزر حملے ریکارڈ کیے گئے۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے اعدادوشمار کے مطابق پائلٹوں نے 9,723 واقعات رپورٹ کیے جو کہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں