یوکرینی صدر کا مسلمان سپاہیوں کے اکرام میں افطار پارٹی کا اہتمام

صدر ولادی میر زیلنسکی نے وسطی کیف کے مضافات میں ایک مسجد میں افطاری پارٹی سے خطاب میں کہا کہ یوکرین نے سرکاری افطار کی میزبانی کی ایک نئی روایت شروع کی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے جمعہ کے روز ایک رمضان افطار ضیافت کا اہتمام کیا۔ اس تقریب سےخطاب میں انہوں نے کریمیا کو روس سے چھڑانے کا عہد کیا۔

روس نے 2014 میں بحیرہ اسود سے متصل کریمیا پر قبضہ کر لیا تھا اور ایک ریفرنڈم میں اس کا الحاق بھی کر لیا،تاہم اس قبضے کی کیف اور اس کے مغربی اتحادیوں نے مذمت کی تھی۔

زیلنسکی نے یوکرینی مسلم رہ نماؤں اور مسلم ممالک کے سفیروں سے کہا کہ روس کی یوکرین کو غلام بنانے کی کوشش بالکل کریمیا پر قبضے کے ساتھ شروع ہوئی۔ یہ کوشش کریمیائی تاتاروں اور کریمیائی مسلمانوں کی آزادی کو دبانے کے لیے شروع کی گئی تھی۔

تاتاریوں نے جو کریمیا کی 20 لاکھ آبادی کا 12 سے 15 فیصد کے درمیان ہیں نے بڑے پیمانے پر 2014 کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔

اس کے بعد ماسکو نے مجلس کو کالعدم قرار دے دیا۔ کریمیا کی مسلم تاتاری اقلیت کی روایتی اسمبلی کو ایک انتہا پسند تنظیم قرار دیا۔

زیلنسکی نے یوکرین کے متعدد مسلمان فوجیوں کو ایوارڈ دینے سے پہلے کہا کہ یوکرین یا دنیا کے لیے کریمیا پر قبضے کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ ہم کریمیا واپس جائیں گے۔"

زیلنسکی نے دارالحکومت کیف کے مرکز کے نواح میں ایک مسجد میں یہ اعلان بھی کیا کہ یوکرین نے سرکاری افطار کی میزبانی کی ایک نئی روایت شروع کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یوکرین ہمارے ملک کے مسلمانوں اور دنیا کے تمام مسلمانوں کا شکر گذار ہے جو ہماری طرح امن اور برائی سے تحفظ کے لیے تڑپتے ہیں۔"

سعودی عرب اور ترکی سمیت متعدد مسلم اکثریتی ممالک یوکرینی تنازع میں ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں اور کیف اور ماسکو کے درمیان اناج کی برآمدات اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدوں کو آسان بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں