نِيجِيريَا میں مسلح حملہ آوروں نے بچّوں سمیت 80 افراد کواغوا کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نِيجِيريَا کی ریاست زمفارا میں مسلح حملہ آوروں نے دودیہات پر دھاوا بول کرکم سے کم 80 افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ان میں زیادہ ترخواتین اور بچّے شامل ہیں۔

مسلح افراد کے گروہوں نے حالیہ برسوں میں شمال مغربی نِيجِيريَا میں مقامی برادریوں پرسیکڑوں حملے کیے ہیں، جبکہ اسلام پسند عسکریت پسند شمال مشرق میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تین مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ اغوا کا تازہ واقعہ جمعہ کوزمفارا کے مقامی حکومت کے علاقے میں وانزامائی گاؤں میں پیش آیا ہے۔زمفارا اغوا کی وارداتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاستوں میں سے ایک ہے۔

ایک مقامی شخص موسیٰ عثمان نے، جن کا 14 سالہ بیٹا ابراہیم یرغمالیوں میں شامل ہے،بتایا کہ گاؤں کے بچے اورعورتیں کھیتی باڑی کے لیے زمین ہموارکر رہے تھے اور لکڑیاں جمع کر رہے تھے۔اس دوروں میں مسلح افراد نےحملہ کردیا اور انھیں اغوا کرکے قریبی جنگل میں چلے گئے۔

عثمان نے خبررساں ادارے رائٹرز کو فون پربتایا کہ ’’مختلف گھروں سے تعلق رکھنے والے بچّے لکڑیاں جمع کرنے گئے تھے اور ان میں سے کچھ دستی ملازمتوں کی تلاش میں کھیتوں میں جا رہے تھے جب انھیں اغوا کر لیا گیا‘‘۔

زمفارا پولیس کے ترجمان محمد شیخو نے ایک بیان میں اس واقعہ کی تصدیق کی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد کواغوا کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ پولیس یرغمالیوں کو بچانے کے لیے فوج اورکمیونٹی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

ایک اور والدہ ہارونہ نوما نے بتایا کہ ان میں سے بعض افراد قریبی دیہات کوچیری اور دانوری سے تھے اور وہ کھیتی باڑی کے لیے زمین صاف کرنے کے لیے وانزامائی گئے تھے۔رہائشیوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ابھی تک تاوان کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔امینہ سیف نے کہا کہ ان کی بیٹی کو بھی اغوا کیا کرلیا گیا ہے۔ان یرغمالیوں میں زیادہ تر بچوں کی عمریں 12 سے 17 سال کے درمیان تھیں۔

نِيجِيريَا میں اغواکارتاوان کی ادائی نہ ہونے کی صورت میں یرغمالیوں کومہینوں تک اپنے پاس رکھتے ہیں اور گاؤں والوں سے تحفظ فیس ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ انھیں اپنی فصلوں کی کھیتی اور کٹائی کی اجازت دی جا سکے۔نِيجِيريَا کی فوج مسلح گروہوں کے زیر استعمال جھاڑیوں کے کیمپوں پر بمباری کرتی رہتی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے عام شہریوں پرحملے جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں