آبنائے تائیوان میں چین اور تائیوان کے 20 بحری جہاز آمنے سامنے آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تائیوان کے جزیرے کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی ایک مشق میں چین مسلسل دوسرے دن سرگرمیاں انجام دے رہا ہے۔ اس کی روشنی میں آج اتوار کو آبنائے تائیوان پر سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی تناؤ بھی غالب آ گیا ہے۔

ایک باخبر ذریعہ نے تصدیق کی ہے کہ تقریباً 20 فوجی بحری جہاز آبنائے تائیوان کی درمیانی لائن کے قریب آمنے سامنے آگئے ہیں۔ ان بحری جہازوں میں سے دس چین اور دس تائیوان کے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ذریعے نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین نے آج تائیوان کے جنوب مغربی ساحل پر غیر ملکی فوجی اہداف پر نقلی اور فرضی حملے کیے ہیں۔

ہفتے کے روز سے چین نے جزیرے کو مکمل طور پر گھیرے میں لینے کے لیے آبنائے تائیوان میں مشقیں شروع کر دی ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق چینی فوج کی یہ مشقیں پیر تک جاری رہیں گی۔

دوسری طرف تائیوان کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے اوائل میں چین نے اپنی فوجی مشقیں جاری رکھی ہیں اور کئی طیارے بھیجے ہیں۔ وزارت دفاع نے واضح کیا کہ مشقوں کے دوسرے دن جزیرے کے گرد 9 جنگی جہازوں اور 58 چینی طیاروں کی نگرانی کی گئی ہے۔ چین کی یہ مشقیں تائیوان کی صدر سائی انگ وین کے امریکہ کے دورے سے واپس آنے کے ایک دن بعد شروع کی گئی ہیں۔ اس دورے نے بیجنگ کو ناراض کردیا تھا۔

چین تائیوان کے حکام اور واشنگٹن کے درمیان برسوں سے جاری تعلقات کو ناراضی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بیجنگ 23 ملین کی آبادی والے تائیوان کو اپنی سرزمین کا اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔ تاہم 1949 میں چینی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے اب تک اسے اپنی باقی زمینوں کے ساتھ دوبارہ جوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں