مسجد اقصی مکمل طور پر صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے: او آئی سی

القدس الشریف کے تشخص کو مٹانے کے لیے اسرائیلی غاصبانہ پالیسیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )نے القدس الشریف کے تشخص کو مٹانے کے لیے اسرائیل کی تمام غاصبانہ پالیسیوں کو یکسرمسترد کردیا ہے۔ او آئی سی نے اسرائیلی غاصبانہ پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ القدس مقبوضہ فلسطینی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے اور فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے۔ مسجد اقصی اپنے پورے حصے کے ساتھ صرف مسلمانوں کی خالص عبادت گاہ ہے۔

یہ بات او آئی سی کی اوپن اینڈ ایگزیکٹیو کمیٹی کے ایک غیر معمولی اجلاس کے دوران کی گئی ہے۔ ہفتہ کے روز جدہ میں یہ اجلاس مسجد اقصیٰ پراسرائیلی حملوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

اجلاس سے اپنے خطاب میں تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے مسجد اقصیٰ میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تنظیم کے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب القدس الشریف کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیل کی صریح خلاف ورزیوں اور جارحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الاقصی المبارک پر اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی ہے۔ صہیونی فورسز نے نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا، سینکڑوں فلسطینیوں کو زخمی اور گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے القدس الشریف میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات بالخصوص مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا اور کہا ان سنگین جرائم اور خلاف ورزیوں کا مکمل ذمہ دار قابض اسرائیل ہے۔ اسرائیل تشدد اور کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو داؤ پر لگا رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے تمام فیصلوں اور پالیسیوں کا مقصد القدس کی جغرافیائی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔ قابض اسرائیل شہر کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو متاثر کر رہا ہے۔ القدس میں جاری اسرائیلی ریشہ دوانیوں کا کوئی قانونی اثر ہے اور انہیں بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کالعدم سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں