مظاہروں میں موساد کے ملوث ہونے سے متعلق پینٹاگون کی دستاویزات من گھڑت ہیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے امریکی محکمہ دفاع [پینٹاگون] کی سوشل میڈیا پر افشا ہونے والی ان مبینہ دستاویزات کومن گھڑت قرار دیتےہوئے مسترد کردیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل میں جوڈیشل ریفارم کے خلاف اسرائیلی شہروں میں ہونے والے حالیہ مظاہروں میں موساد کے عناصر نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ موساد نے شہریوں کو ان مظاہروں میں شرکت کرنےکی ترغیب بھی دلائی تھی۔

ان دستاویزات میں یوکرین کی مدد کے امریکی منصوبوں کے ساتھ ساتھ روسی فوج کی صورت حال کے حوالے سے بھی اہم معلومات شائع کی گئی ہیں۔

اسرائیل نے’موساد‘ کے حکومت مخالف مظاہروں میں ملوث ہونے کےالزامات کویکسرمسترد کردیا ہے۔

تل ابیب نے زور دے کر کہا کہ ’موساد‘ کے بارے میں جو کچھ امریکی پریس میں شائع ہوا ہے کہ وہ اپنے ارکان کو اسرائیلی حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف جاری مظاہروں میں شرکت کی ترغیب دے رہے ہیں تو یہ سراسر جھوٹ غلط ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے آج اتوار کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ "نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ مکمل طور پر جھوٹی اور بے بنیاد ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ’موساد‘ نے اپنے سینیر حکام یا ایجنسی کے ارکان کو حکومت مخالف مظاہروں، سیاسی مظاہروں یا کسی دوسری سیاسی سرگرمی میں شامل ہونے کی ترغیب نہیں دی۔

پینٹاگون
پینٹاگون

ادھر پینٹاگون کی ایک اور لیک ہونے والی دستاویزات میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ اسرائیل کی غیر ملکی انٹیلی جنس سروس ’موساد‘ کی قیادت نے شہریوں اور اپنے ملازمین کو حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کی ترغیب دی تھی۔

تاہم اسرائیلی دفاعی حکام نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، منظر عام آنے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ فروری میں ’موساد‘ کی جاسوسی سروس کے سینیر رہ نماؤں نے ’موساد‘ کے اہلکاروں اور اسرائیلی شہریوں سے نئی اسرائیلی حکومت کے لیے مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے بلایا، جس میں اسرائیلی حکومت کی مخالفت کرنے کے لیے کئی واضح مطالبات بھی شامل تھے۔

اخبار کے مطابق غیر ملکی جاسوسی ایجنسی موساد کی اسرائیلی سیاست میں براہ راست مداخلت ایک اہم انکشاف ہے۔

واضح رہے کہ سیاست میں براہ راست مداخلت موساد کے لیے ممنوع ہے۔ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری بیرون ملک جاسوسی کی سرگرمیوں کو انجام دینا ہے۔

نیتن یاہو حکومت کی جانب سے ملک میں عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرانے کے لیے پیش کیے گئے بل نے خاص طور پر سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے بعد ملک میں بڑے بڑے مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ یہ احتجاج کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں