پوپ کا اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تشدد پر گہری تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

رومن کیتھولک کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے اتوار کے روز ایسٹر کی تقریب سے خطاب میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے سینٹ پیٹرزاسکوائر میں جمع ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کے عودکرنے آنے سےاسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اعتماد اور باہمی احترام کے مطلوبہ ماحول کو خطرہ لاحق ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اس ہفتے مسلمانوں کے رمضان، یہودکے مذہبی تیوہار فسح اور عیسائی ایسٹر کے موقع پر تشدد اور بدامنی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بدھ کے روز اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے صحن پر دھاوا بول دیا تھا۔اس کاجواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ اس کا مقصد قانون توڑنے والے نوجوانوں اور نقاب پوش مظاہرین کو باہر نکالنا تھا۔

جمعرات کولبنان کی سرزمین سے اسرائیل پر30 سے زیادہ راکٹ داغے گئے۔اسرائیلی فوج نے فلسطینی گروپوں پراس کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکنہ طور پرغزہ کی پٹی میں حکمران حماس کے حامیوں نے داغے تھے۔

اس کے بعد اسرائیل نے غزہ اور جنوبی لبنان پر بمباری کی، جس میں "مسلح مزاحمتی تنظیموں کے بنیادی ڈھانچے" کو نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ وہ حماس سے تعلق رکھتے ہیں۔

جمعہ کوتل ابیب اور مغربی کنارے میں دو الگ الگ حملوں میں ایک اطالوی سیاح اور دو برطانوی اسرائیلی بہنیں ہلاک اور متعدد افرادزخمی ہوگئے تھے۔

اتوار کے روز اسرائیل نے شام پر توپ خانے سے حملے کیے ہیں۔اس کے بارے میں صہیونی فوج کا کہنا تھا کہ وہاں سے اسرائیلی علاقے پر راکٹ داغے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں