پینٹاگون کی لیک دستاویز میں ویگنر اور ترکی سے اسلحہ سمگلنگ کی معلومات فاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پینٹاگون کی حساس دستاویز لیک ہونے کے بعد واشنگٹن میں ابھی تک اس حوالے تحقیقات جاری ہیں کہ یہ فوجی دستاویز سوشل میڈیا پر کیسے لیک ہوئیں تاہم دوسری جانب ان دستاویز کے باعث نئی معلومات کا بھی افشا ہوگیا ہے۔

ان دستاویزات میں روسی فوج کی کمزوری اور یوکرین کی سرزمین پر لڑائی میں اس کے تھک جانے اور جنگجوؤں اور سازو سامان کی کمی کے سامنا کرنے کا علم ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب ان دستاویز سے روس کے پیرا ملٹری گروپ ’’ ویگنر‘‘ کی طاقت میں اضافے اور مشرقی یوکرین کی لڑائی میں مصروفیت کے باوجود اس کے طاقتور ہونے کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے۔

لیک ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ویگنر، جس کی صفوں میں ہزاروں جنگجو، قیدی اور سابق مجرم شامل ہیں، امریکی مفادات کو خطرے میں ڈالنے اور افریقہ میں اس کے منصوبوں کو ناکام بنانے میں سرگرم ہے۔ یہاں تک کے ویگنر نے اپنی سرگرمیاں ہیٹی تک پھیلا رکھی ہیں۔ یہاں وہ پر تشدد گروپوں کے مقابلے میں حکومت کی مدد میں مصروف ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق خفیہ دستاویزات میں سے ایک نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ویگنر کے اہلکاروں کی سربراہی میں یوگینی پریگوزین جو پہلے پوتن کے شیف کے طور پر جانا جاتا تھا نے فروری میں "ترک حکام" سے خفیہ ملاقات کی اور یوکرین میں استعمال کے لیے ہتھیاروں اور آلات کی سمگلنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ .

ویگنر کے رہنماؤں نے مشورہ دیا کہ مغربی افریقی ملک مالی جو روسی فوجی گروپ کے لیے ایک اہم چوکی ہے پراکسی کا کردار ادا کرے۔ تاکہ ویگنر کو ترکی سے ہتھیار حاصل ہوسکیں۔ روسی ملیشیا کے ایک ملازم نے انکشاف کیا ہے دستاویز کے مطابق مالی میں ویگنر کے 1,645 سے زائد اہلکار موجود ہیں۔ ویگنر نے مالی میں 2021 میں اقتدار سنبھالنے والی فوجی کونسل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔

تاہم اسلحہ اسمگلنگ کے اس منصوبے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس پر مغربی پابندیوں کے نتیجے میں اس گروپ کے لیے بھی سازوسامان کا حصول کتنا مشکل ہوگیا ہے۔

ویگنر کے امور کے ایک امریکی ماہر اور نیو امریکہ تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر کینڈیس رونڈو نے بتایا ہے کہ یہ ایک دلچسپ علامت ہے کہ ان کی فوجی صلاحیتوں میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ تاہم ابھی یک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ ہتھیار درحقیقت ترکی سے منتقل کیے گئے تھے یا ترک حکام کو اس کا علم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں