ہمارے پاس ہر قسم کے حالات میں یورینیم افزود کرنے کی صلاحیت موجود ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جوہری مذاکرات کے مہینوں کے تعطل کی روشنی میں ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک جب چاہے اور کسی بھی شرح سے یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محمد اسلامی نے ایرانی ٹیلی ویژن کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکہ کا مقصد ایرانی جوہری ٹیکنالوجی کو روکنا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا اور اس نے کوئی نتیجہ حاصل نہیں کیا۔

ایرانی نیوز ایجنسی ’’ ارنا‘‘ کے مطابق ایٹمی معاہدے کو بحال کرنے کے مسئلے میں پیش رفت نہ ہونے کے متعلق بات کرتے ہوئے محمد اسلامی نے کہا امریکیوں کی طرف سے معاہدے پر عمل نہ کرنے کی وجوہات محض بہانہ ہیں۔ واشنگٹن کا اصل ہدف ایران کی ترقی کو روکنا ہے۔

یورینیم کی افزودگی کی شرح 60 فیصد تک پہنچنے کے تہران کے اعلان کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے محمد اسلامی نے کہا کہ اس چیز کا مذاکرات کے طریقہ کار پر اثر انداز ہونا فطری ہے۔

ایران کی جوہری توانائی کی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے مزید کہا کہ امریکیوں نے یہ تاثر پیدا کر دیا ہے کہ جوہری ایران کو آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ اس علم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ عرصے میں ایران کی طرف سے افزودگی کا حجم بے مثال ہے جس سے سب کو یہ احساس ہوا ہے کہ ایرانی صلاحیت حقیقی ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے تہران اور معاہدے کے فریق ملکوں یعنی چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان مذاکرات امریکہ کی بالواسطہ شرکت کے ساتھ شروع ہوئے اور پھر اگست 2022 میں معطل ہوگئے تھے۔

مذاکرات کو مزید دھچکا اس وقت لگا جب جب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے فروری 2023 میں اپنی متواتر رپورٹ میں اعلان کیا کہ اس نے ایران میں 83.7 فیصد تک افزدوہ یورینیم کے ذرات پائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں