برطانیہ سے سکھ خالصتان تحریک کےتنازع پر تجارتی مذاکرات معطل نہیں کیے: بھارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے تین عہدے داروں نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل نہیں کیے گئےہیں اور یہ اس سال بھی جاری رہیں گے۔

تین عہدے داروں نے پیرکو برطانوی اخبارمیں شائع شدی ایک رپورٹ کی تردید کی ہے۔اس میں یہ کہا گیا ہےکہ لندن کی طرف سے سکھ علاحدگی پسندوں کی مذمت کرنے میں ناکامی کے بعد بھارت تجارتی مذاکرات سے’’الگ‘‘ہوگیا ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدہ دارنے کہا کہ تجارتی مذاکرات میں پیش رفت اور برطانیہ میں سکھ علاحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے بارے میں نئی دہلی کے خدشات کو ایک دوسرے سے منسلک نہیں کیا جانا چاہیے۔

نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن کے ایک سفارتی عہدہ دارنے کہا کہ تجارتی مذاکرات طے شدہ انداز میں جاری رہیں گے۔

لندن میں سکیورٹی حکام برطانیہ میں سکھ علاحدگی پسند سرگرمیوں کےبارے میں بھارت کے خدشات کو دورکرنے کی کوشش کررہے ہیں۔برطانوی محکمہ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ اور بھارت دونوں باہمی مفاد میں آزادتجارتی معاہدے کے لیے پُرعزم ہیں اور گذشتہ ماہ ان کے درمیان تجارتی مذاکرات کا حالیہ دوراختتام پذیر ہواتھا۔

ترجمان دفترخارجہ کاکہناتھا کہ سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمیشن میں تشدد کے حالیہ واقعات کی مذمت کی ہے اور ہم میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کرسکیورٹی کا جائزہ لینے اور عملہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

بھارت لندن،امریکااور کینیڈا میں اپنے سفارت خانے کے باہر سکھ علاحدگی پسندوں کے احتجاج اور توڑ پھوڑپرنالاں ہے۔گذشتہ ماہ نام نہاد آزاد سکھ ریاست خالصتان کی حمایت میں بینرزکے ساتھ مظاہرین نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ کیا تھا اور خالصتان کے حامی ایک سکھ مبلغ کے خلاف پولیس کی حالیہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے عمارت کی بالکونی سے بھارتی پرچم اتار دیا تھا۔

بھارت اور بیرون ملک سکھ آبادی کے کچھ طبقات نے خالصتان تحریک کااحیاء کیاہے اور ایک مرتبہ پھر خالصتان کے حق میں مظاہرے کررہے ہیں۔بھارت نے گذشتہ ماہ نئی دہلی میں اعلیٰ برطانوی سفارت کار کو طلب کرکے لندن واقعہ پر شدید احتجاج کیا تھا۔

وزارت خارجہ نے بعد میں کہا تھا کہ بھارت کو یقین دہانیوں میں دلچسپی نہیں ہے لیکن وہ کارروائی دیکھنا چاہتا ہے۔دوسری جانب برطانوی وزیرخارجہ جیمز کلیورلی نے کہا کہ لندن میں ہائی کمیشن کے عملہ کے خلاف تشدد کی کارروائیاں ناقابل قبول ہے اور برطانوی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔

اخبارٹائمزنے یہ خبر دی ہے کہ بھارت نے برطانیہ پر سفارتی مشن کے تحفظ میں ناکامی کا الزام عاید کیا ہے اور مذاکرات سے "دستبرداری" اختیار کرلی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل نہیں کیے گئے ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں میڈیا رپورٹس کو 'بے بنیاد' قرار دیا ہے۔

اس وقت برطانیہ اوربھارت کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 35.5 ارب ڈالر (29 ارب پاؤنڈ) ہے اوراس کی توسیع برطانیہ کی بحرہند اوربحرالکاہل کی خارجہ پالیسی کے جھکاؤ کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد خطے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں