رمضان میں پھل نہ خریدنے پر مصری نے اپنی بیوی کو قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر میں ایک 20 سالہ نرس کے اندوہناک قتل نے غم و غصہ کی لہر پیدا کردی ہے۔ ہفتہ کے روز نرس فاطمہ سعید کو چھری کا وار کرکے قتل کردیا گیا۔ گمان کیا جارہاہے کہ اس کے شوہر نرس محمد حاتم الخولی نے اسے اس بنا پر قتل کردیا ہے کہ فاطمہ سعید نے اس سے رمضان کے میوہ جات خریدنے کے لیے رقم مانگی تھی۔ پھر فاطمہ بازار گئی اور واپس آئی تو اس نے رمضان میں کھانے کے لیے پھل اور خشک میوہ جات نہیں خریدے تھے۔ مصر میں ان پھلوں کو ’’ یامیش‘‘ کہا جاتا ہے۔ یامیش نہ خریدنے پر حاتم نے طیش میں آکر اپنی بیوی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مقتولہ فاطمہ سعید قاہرہ میں ’’ ابوالریش‘‘ ہسپتال میں بچوں کے شعبہ میں نرس کی حیثیت سے کام کرتی تھی۔ وہ اپنے بیس سالہ شوہر کے ساتھ 6 اکتوبر کو غزہ گورنریٹ کے ضلع میں مقیم تھی۔ ان کی شادی کو 6 ماہ بھی نہیں گزرے تھے۔ دونوں میاں بیوی میں جھگڑے ہونے لگے جو فاطمہ کے قتل پر ہی ختم ہوئے۔

پولیس نے شوہر حاتم کو گرفتار کر لیا اور استغاثہ نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کے شبہ میں تفتیش کے لیے اسے 4 دن کے لیے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو چار مقامی نیوز ویب سائٹس سے معلوم ہوا ہے کہ جھگڑے کے دوران بیوی فاطمہ سعید نے چھری اٹھائی تھی اور خود کو گھونپنے کی دھمکی دی ۔ حاتم نے اس سے چاقو چھیننے کی کوشش کی تو اس نے خود کو چاقو مار زخمی کرلیا۔ حاتم تیزی سے اسے ہسپتال لے گیا جہاں وہ دم توڑ گئی۔

ایک اور نیوز ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ شوہر نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اسے چاقو مارا پھر وہ اسے ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال لے گیا لیکن وہاں پہنچ کر وہ دم توڑ گئی۔

سیکورٹی سروسز کے ارکان نے مقتولہ کے خاندان سے بات کی۔ اس کے والدین نے تصدیق کی کہ ان کی بیٹی کو اس کی شادی کے بعد سے شوہر کے لالچ سے پریشانی تھی۔ شوہر اس پر اتنا کنٹرول رکھتا تھا کہ وہ "موسموں" میں مداخلت کر رہا تھا۔ ہم اپنی بیٹی کو ہمیشہ کہتے تھے کہ شوہر کے لیے تحائف لے جایا کرے۔ وہ اسے کبھی کبھی مارتا پیٹتا بجی تھا۔ والدین نے کہا جب اس نے ان کی بیٹی کو قتل کیا تو اس کے گھر والوں نے اسے چھپایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں