سعودی عرب کے سینیئر علما نے نئے اسلامی فقہ کی تدوین کی تجویز مسترد کردی

نئے اسلامی فقہ کے قیام کے مطالبے میں حقیقت پسندی کا فقدان ہے، نیز موجودہ اسلامی فقہ اسلام کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے: سینیر علما کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے سینیئر علما نے ایک سرکردہ عالم دین کی طرف سے نئے اسلامی فقہ کی تدوین کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

سوموارکے روز سعودی عرب میں سینیئر علماء کی کونسل کے جنرل سیکرٹریٹ نے کہا ہے کہ ایک نئے اسلامی فقہ کے قیام کا مطالبہ میں معروضی حالات کے مطابق نہیں اور اس میں حقیقت پسندی کا فقدان ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق اس سلسلے میں علماء نے کہا کہ اسلامی فقہ اپنے فقہی مکاتب فکر اور مختلف فقہوں کے ساتھ جدید زندگی کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اورسماجی اور دینی ضروریات کے لحاظ سے اسلامی قانون سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا ثبوت علمی اداروں اور فقہی کونسلوں سے ملتا ہے جو ان فہقوں پر عمل کرتے ہیں۔ موجودہ مروجہ فقہ اجتماعی اجتہاد ہی کا ایک نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت مسلمانوں پر خدا کی نعمتوں میں سے ان اداروں اور اکیڈمیوں کے ذریعے اجتماعی اجتہاد کی سہولت بھی ایک نعمت ہے جو معاشرے کی ضروریات اور اس کی علمی، سماجی اور اقتصادی ترقیوں کے ساتھ مثبت طور پر تعامل کرتے ہیں اورمختلف علمی اور تحقیقی اداروں کی طرف سے سینکڑوں فیصلوں کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔

نیا اسلامی فقہ

سعودی عرب کی علما کونسل کی طرف سے یہ بیان مدینہ منورہ کی مسجد قباء کے سابق امام الشیخ صالح المغامسی کے متنازعہ بیانات کے جواب میں سامنے آیا۔ انہوں نے اسلامی مذہب میں ایک نئے فقہ کی تدوین کی ضرورت کے بارے میں بات کی۔

سعودی چینل ’ون‘ پر ایک انٹرویو میں المغامسی نے کہا کہ وہ "امید کرتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ پر ایک نیا اسلامی مکتبہ فکر قائم کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ میرے الفاظ بہت زیادہ تنقید کی زد میں آئیں گے۔ اپنے بیان کے جواز میں بات کرتے ہوئے الشیخ المغامسی نے کہا کہ مسلم امہ کے فقہی ذخیرے میں سقم موجود ہیں یہی وجہ ہےکہ امت کو نئے اسلامی فقہ کی تخلیق کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے ثقہ علما کے ایک گروپ یا معتبر دینی شخصیت کی زیرنگرانی نئے فقہ کی تدوین کی تجویز پیش کی۔ ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر بھی ملا جلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کے موقف کی تائید کی ہے جبکہ بعض نے اس کی مخالفت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں