کینیڈا کی ایک مسجد کے احاطے میں نمازی کو کار تلے روندنے کے ناکام کوشش

امریکا کی ریاست نیو جرسی میں نماز فجر کے دوران پیش امام مسجد پر چاقو سے حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کینیڈا کی پولیس نے "نفرت انگیز واقعہ" میں ملوث ہونے کی پاداش میں اتوار کے روز ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ ادھر امریکی ریاست نیو جرسی کی ایک مسجد کے امام دوران نماز چاقو کے حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ اونٹاریو صوبے کے مارکھم شہر میں پیش آیا تھا۔ جہاں 28 سالہ شرن کروناکرن نامی شخص نے مبینہ طورپر ایک مسجد کے احاطے میں ایک نمازی کو اپنی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی تھی۔ واقعے میں ملوث شخص کو بعد میں ٹورنٹو سے گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے مشتبہ شخص پر دھمکیاں دینے، ہتھیار سے حملہ کرنے اور خطرناک ڈرائیونگ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اسے منگل کے روز نیو مارکیٹ میں اونٹاریو کی اعلیٰ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اسلامک سوسائٹی آف مارکھم (آئی ایس ایم) نے ایک بیان میں کہا کہ جمعرات کے روز ایک شخص مارکھم کی مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے بظاہر قرآن کو شہید کیا اور وہاں موجود نمازیوں کو برا بھلا کہا۔

پولیس نے اتوار کے روز اپنے بیان میں تاہم مسلمانوں کی مقدس کتاب کی توہین کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

’’نفرت انگیز جرم‘‘ کی سرکاری سطح پر مذمت

کینیڈا کی وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کینیڈا کی وزیر تجارت میری نیگ نے اس واقعے کی مذمت کی اور اسے نفرت انگیز جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈیائی سماج میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

نیگ جو مقامی رکن پارلیمان بھی ہیں، نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "نفرت انگیز جرم کے واقعے اور نسل پرستانہ رویے کے بارے میں سن کر انہیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔"

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں نیگ نے مزید کہا کہ مساجد امن اور کمیونٹی کے لیے عبادت کی جگہ ہے اور اپنی عبادت گاہ میں ہر شخص کو محفوظ محسوس کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "اس تشدد اور اسلاموفوبیا کے لیے ہماری کمیونٹیز میں کوئی جگہ نہیں ہے۔"

نیو جرسی پیش امام پر چاقو سے وار

ادھر امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے علاقے پیٹر سن کی ایک مسجد میں فجر کی نماز ادا کی جا رہی تھی کہ ایک شخص نے امام مسجد پر چاقو سے حملہ کر دیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو نمازیوں کے درمیان سے دوڑ کر نکلتے اور امام مسجد پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ملزم نے امام مسجد کی گردن اور پیٹ پر وار کیے۔ زخمی امام مسجد کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

نمازیوں نے امام مسجد پر چاقو کے وار کرنے والے شخص کی فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسے پکڑ لیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ حملے کے وقت مسجد میں 200 نمازی موجود تھے۔

پولیس حکام نے حملہ آور کے بارے میں تفصیلات جاری کیے بغیر بیان میں کہا کہ حملہ آور کی عمر 32 سال ہے اور حملہ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

یہ واقعات رمضان میں مہینے میں اس وقت پیش آئے ہیں جب بڑی تعداد میں لوگ مساجد میں عبادت کے لیے جاتے ہیں۔ کینیڈا میں رونما ہونے والے حادثے کے وقت بھی ہزاروں مسلمان مارکھم کی مسجد میں موجود تھے۔ مارکھم ٹورنٹو سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں