ہواوے کا مشرق اوسط کا ہیڈ کوارٹر سعودی دارالحکومت الریاض میں منتقل کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کی کثیر قومی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے سعودی عرب کی جانب سے خود کو علاقائی کاروباری مرکز کے طور پر بنانے اور اس کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی اور کاروباری تعلقات کے پیش نظر اپنا مشرق اوسط کا ہیڈکوارٹر الریاض میں منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چینی کمپنی کے دفاتر پہلے ہی سعودی دارالحکومت اور مشرق اوسط کے دیگر شہروں میں موجود ہیں، اب وہ ملکت میں اپنی موجودگی کو بہتر بنانے کے لیے الریاض میں حکام کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہواوے کی جانب سے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ہواوے کے ترجمان نے اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس وقت کمپنی کے علاقائی صدر دفاتر دبئی اور بحرین میں ہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ سال یہ اعلان کیا تھاکہ 2024 کے آغاز سے سرکاری اداروں کو ان تمام غیرملکی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار کرنے سے روک دیا جائے گا جن کا ملک میں علاقائی ہیڈ کوارٹر نہیں ہوگا۔ اس اقدام کا ایک مقصد مملکت میں غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

ہواوے سعودی عرب میں اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ امریکا اپنے اتحادیوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ چینی ٹیکنالوجی فرم سے معاملات سے گریز کریں۔

سعودی حکام کے مطابق قریباً 80 کمپنیوں نے گذشتہ سال کے آخر میں اپنے صدردفاتر کو الریاض میں منتقل کرنے کے لیے لائسنس کی درخواست دی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور چین کے درمیان مختلف شعبوں تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال چینی صدرشی جن پنگ کے الریاض کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک نے 50 ارب ڈالر مالیت کے مختلف معاہدوں پردست خط کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں