ترکیہ کے پہلے جنگی بحری جہاز کا افتتاح، اب ڈرون صلاحیتوں پرنظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ نے بحیرہ اسود کے دوسری جانب یوکرین میں جاری جنگ کے دوران میں علاقائی کشیدگی میں اضافے کے تناظر پیرکے روز اپنے پہلے جنگی بحری جہازکا افتتاح کیا ہے۔اس کامقصد ڈرون صلاحیتوں کو زمینی سطح سے بحری کارروائیوں تک بڑھانا ہے۔

ٹی سی جی انادولو جہازصرف ہلکے طیاروں، خاص طور پر ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں کو سنبھال سکتا ہے۔یہ چھوٹے رن وے سے اڑان بھر سکتے ہیں۔ یہ جہاز 232 میٹرلمبا اور 32 میٹر چوڑا ہے، اور بیرون ملک کام کرنےکے لیے قریباً1،400 اہلکاروں، فوجیوں کی ایک بٹالین اور لڑاکا گاڑیوں اور معاون یونٹ کوسوار کرسکتا ہے‘‘۔

ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ جہاز ضرورت پڑنے پر ہمیں دنیا کے ہر کونے میں فوجی اور انسانی بنیادوں پر آپریشن کی اجازت دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اس جہاز کو ایک علامت کے طور پر دیکھتے ہیں اوریہ ترکیہ کی علاقائی قیادت کی پوزیشن کو مستحکم کرے گا‘‘۔

استنبول کے سیدیف شپ یارڈ میں ترکیہ اور ہسپانوی کنسورشیم کی جانب سے ہسپانوی ہلکے طیارہ بردار بحری جہاز خوان کارلوس اول کے ڈیزائن کی بنیاد پر یہ بحری جہاز بنایا گیا ہے۔

انقرہ کا اصل منصوبہ ایف 35 بی ماڈل لڑاکا طیاروں کو اپنے سب سے بڑے جنگی جہاز پرلنگراندازکرنا تھا۔یہ چھوٹے رن وے سے اڑان بھر سکتے ہیں۔لیکن اس کے منصوبوں کو اس وقت تبدیل کرنا پڑا جب امریکانے 2019 میں نیٹو کے اتحادی ترکیہ کو اپنے ایف -35 پروگرام سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد ترکیہ نے ٹی سی جی انادولو کو ڈرون کیریئر میں تبدیل کر دیاتھا۔اس نے یہ فیصلہ انقرہ کے روس سے ایس -400 فضائی دفاعی نظام خرید کرنے کے ردعمل میں کیا تھا۔

ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ، ترکیہ نئے کیریئر بیرکتر ٹی بی 3 اور کزیلما بغیر پائلٹ کے فضائی لڑاکا گاڑیوں کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے - دونوں ترک دفاعی فرم بیکر کی طرف سے تیار کیے جارہے ہیں - نیز ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز (ٹی اے آئی) کی طرف سے تیار کردہ ہرجیٹ ہلکے حملے کے طیارے بھی شامل ہیں۔

منصوبے پر عمل درآمد کے بعد ٹی سی جی اناطولو دنیا کا پہلا ایمفیبیئس حملہ آور جہاز ہوگا جس کا بیڑا زیادہ تر مسلح ڈرونز پر مشتمل ہوگا۔ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے، تنازعات سے دوچار شام اور عراق کے ساتھ اس کی سرحد واقع ہے اور اس کے پاس بحر متوسط (بحیرہ روم) کے ساتھ ساتھ بحیرہ اسود کی ساحلی پٹی بھی ہے۔

قریباً 14 ماہ سے جاری یوکرین جنگ میں ترکیہ نے کیف اور ماسکو کے درمیان ثالث کے طور پر خود کو کھڑا کیا ہے اور اقوام متحدہ کے ساتھ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین کی بندرگاہوں سے اناج کی محفوظ برآمدات کی اجازت دینے والے معاہدے میں مدد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں