برطانیہ میں انسداد تمباکو نوشی کے لیے ای سگریٹ کے استعمال کو فروغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی حکومت نے منگل کو کہا کہ انسداد سگریٹ نوشی مہم کے تحت 10 لاکھ تک سگریٹ نوشی کرنے والوں کو سگریٹ کے بدلے ای سگریٹ کے استعمال کی ترغیب دی جائے گی ، حاملہ خواتین کو اس تبدیلی کے لیے مالی مراعات کی پیشکش کی جائے گی ۔

برطانوی محکمہ صحت نے کہا ہے کہ اس اسکیم کے تحت، تمباکو نوشی کرنے والے پانچ میں سے تقریباً ایک فرد کو سگریٹ چھوڑنے کے لیے ایک " ویپ " ایک ای سگریٹ اسٹارٹر کٹ کے ساتھ ساتھ مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

حاملہ خواتین کو اس عادت کو ختم کرنے کے لیے واؤچر بھی پیش کیے جائیں گے۔

یہ مہم ملک میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد کو موجودہ 13 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد یا اس سے کم پر لانے کے حکومتی ہدف کا تسلسل ہے۔

یہ نئی قومی 'سواپ ٹو اسٹاپ' اسکیم دنیا میں اپنی نوعیت کی پہلی اسکیم ہے۔

وزارت صحت نے کہا کہ اگرچہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی اوسط شرح برطانیہ سے زیادہ ہے، لیکن تمباکو اب بھی ملک میں موت اور بیماری کی سب سے زیادہ قابل روک وجہ ہے۔

حکومت نے 2021-22 میں تمباکونوشی سے روکنے کے لیے مقامی اتھارٹی کے اقدامات پر 68 ملین پاؤنڈز ($84.52 ملین) خرچ کئے، جس کا مقصد 100,000 افراد کو تمباکو نوشی سے روکنا اور برطانیہ کی قومی صحت سروس پر دباؤ کو کم کرنا تھا۔

تاہم، ویپ کتنی محفوظ ہے یا سگریٹ کی عادت ختم کرنے میں کتنی موثر ہے یہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

ناقدین اور صحت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ بچوں میں اس کی مقبولیت انہیں ایسے کیمیکلز کے خطرے سے دوچار کرتی ہے جن کے طویل مدتی اثرات واضح نہیں ہیں۔

صحت کی خدمات کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں 11 سے 15 سال کی عمر کے 9% افراد نے 2021 میں ای سگریٹ کا استعمال کیا تھا، جو تین سال پہلے 6% تھا۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ 18 سال سے کم عمر افراد کو برقی سگریٹ کی غیر قانونی فروخت کو روکنے کے لیے 3 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ سے ایک انفورسمنٹ اسکواڈ تشکیل دے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں