بھارتی وزیر داخلہ کا اروناچل پردیش کا دورہ، دیہی ترقیاتی پروگرام کا آغاز، چین نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت کے طاقتور وزیر داخلہ نے ہمالیہ کے دامن میں واقع سرحدی ریاست اروناچل پردیش کا دورہ کیا ہے اور وہاں 48 ارب روپے (585 ملین ڈالر) کی لاگت سے ایک ترقیاتی اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین بھی اس علاقے پر دعوے دار ہے۔

وزیرداخلہ امیت شاہ نے کہاکہ اس پروگرام میں چار ریاستوں کے قریباً 3000 دیہات اور چین کی سرحد پر وفاق کے زیرانتظام ایک علاقے کا احاطہ کیا جائے گا اور اس کا مقصد سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کو روکنے میں مدد دینا ہے۔

شاہ نے پیر کے روز اروناچل پردیش کے دورے کے موقع پرکہا کہ علاقے میں تعینات ہندوستانی فوجی اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ کوئی بھی اس کی سرحدوں پرمیلی نظر نہ رکھے یا بھارتی سرزمین پر قبضہ نہ کرے۔

ان کا یہ بیان بیجنگ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ مشرقی ریاست کے ان کےمجوزہ دورے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور علاقے میں بھارت کی سرگرمیوں کو چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔

اروناچل پردیش نئی دہلی اور بیجنگ کے درمیان ایک نیا فلیش پوائنٹ بن گیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پہلے ہی 2020 میں مغربی ہمالیہ میں ان کی فوجوں کے مابین خونریز جھڑپوں کے بعد سے کشیدہ ہیں۔اس لڑائی میں طرفین کے 24 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

گذشتہ سال دسمبر میں ریاست کے توانگ سیکٹر میں طرفین کے فوجیوں کے درمیان دوبدو لڑائی اور ہاتھا پائی ہوئی تھی اور گذشتہ ہفتے چین نے اروناچل پردیش میں پانچ پہاڑوں سمیت 11 مقامات کے نام تبدیل کرنے کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ بھارت نے چین کا یہ اقدام مسترد کردیا تھا۔

گذشتہ ہفتے جاری ہونے والے ایک نقشے میں چین نے 11 مقامات کے نام تبدیل کیے ہیں، ان میں 'زنگنان' یا جنوبی تبت کودکھایا گیا ہے جبکہ اروناچل پردیش جنوبی تبت میں شامل ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے قریبی ساتھی اور حکومت میں دوسرے سب سے طاقتور رہ نما سمجھے جانے والے امیت شاہ نے کہا کہ سرحد پر موجود فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کی وجہ سے اندرونی علاقوں میں رہنے والے ہندوستانی سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔

شاہ نے اروناچل پردیش کے ضلع انجو کے سرحدی گاؤں کیبیتھو میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’فوجیوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کوئی بھی ہماری سرحدوں پر نظر نہ رکھ سکے‘‘۔شاہ نے چین کا نام لیے بغیرہندی میں بات کرتے ہوئے کہا؛’’آج ہم فخر سے کہتے ہیں کہ وہ دن لد چکے جب کوئی بھی ہماری سرزمین پر قبضہ کرسکتا تھا‘‘۔

بھارت اور چین نے 1962 میں ایک مختصر لیکن خونریزجنگ لڑی تھی ، اور کیبیتھو چینی افواج کے زیر قبضہ آنے والے علاقوں میں سے ایک تھا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ 10 سال پہلے یہ تشویش لاحق تھی کہ گاؤں خالی ہو رہا ہے ، لیکن انھوں نے ایک شاندار دیہی پروگرام شروع کیا ہے۔اس کے تحت بینکنگ ، بجلی ، کھانا پکانے کی گیس ، روزگار ، جسمانی اور ڈیجیٹل رابطے جیسی سہولیات مہیا کی جائیں گی۔

تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مودی حکومت نے چین کے ساتھ اپنی 3،800 کلومیٹر (2،360 میل) سرحد پر فوجی اور سویلین بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے شاہ کےدورے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’زنگنان چین کا علاقہ ہے۔ بھارتی عہدہ دار کا زنگنان کا دورہ چین کی علاقائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے اور یہ سرحدی صورت حال کے امن وامان کے لیے سازگار نہیں ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں