بین الاقوامی تناؤ کو کم کرنے کے لیے چین کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے:فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی ایوان صدر نے چین کے دورے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیانات کے بارے میں وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ فرانسیسی ایوان صدر کاکہنا ہے کہ پیرس واشنگٹن اور بیجنگ سے یکساں فاصلے پر نہیں ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکا ایک ایسا اتحادی ہے جس کے ساتھ فرانس مشترکہ اقدار کا اشتراک کرتا ہے لیکن عالمی تناؤ کو کم کرنے کے لیے چین کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی نظام کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے یوکرین کی جنگ میں چین کی شمولیت کے امکان سے گریز کی ضرورت ہے اور یہ کہ ایک موثر بین الاقوامی کثیر قطبی نظام قائم کرنے کے لیے کام کرنا چین سے نمٹنے اور دنیا کے ٹکڑے ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ ہے۔

وان ڈیر لیین، شی جن پنگ اور میکرون (رائٹرز)
وان ڈیر لیین، شی جن پنگ اور میکرون (رائٹرز)

فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی توازن، عالمی امن و سلامتی کے حصول اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے یورپی خودمختاری ضروری ہے۔ انہوں نے تائیوان میں امن کی حمایت اور بات چیت کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے پر بھی زور دیا۔

تائیوان کے معاملے پر یورپی ممالک کو امریکا یا چین کی پیروی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ایک "تیسرے قطب" کی شکل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ میکرون کے آج منگل کو ہالینڈ کے دو دن کے دورے پر ہیں ۔ اس دوران وہ یورپ کے بارے میں ایک متوقع تقریر کریں گے۔

میکرون منگل کی سہ پہر دی ہیگ میں ڈچ نیکسس انسٹی ٹیوٹ میں ایک تقریر میں یورپی اقتصادی اور صنعتی خودمختاری اور سلامتی کا اپنا "وژن" پیش کریں گے۔

انہوں نے اتوار کو فرانسیسی اخبار Les Echos کے ذریعے توانائی، مصنوعی ذہانت اور سوشل نیٹ ورکس کا ذکر کرتے ہوئے کہا "ہم اہم مسائل کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔"

تائیوان کے معاملے پر فاصلہ رکھنے اور دفاعی میدان میں "امریکیوں پر انحصار کم کرنے" کے ان کے مطالبے نے یوکرین کے بارے میں ان کے پچھلے بیانات کی طرح تنقید اور سوالات کو جنم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں