اوپیک پلس

سعودی عرب کا اوپیک پلس کے تحت یومیہ تیل پیداواربڑھانے کا فیصلہ کیسے ہوا؟

ایم بی سی کے ٹی وی شو میں سعودی عرب کی روس کے ساتھ 2020 کی تیل جنگ کی جھلکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے وزیرتوانائی نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تین سال قبل روس کے ساتھ تنازع کے دوران میں منڈیوں میں تیل کا سیلاب لانے کے حکم نے بالآخر مملکت کو اوپیک پلس کی پالیسیوں کو تشکیل دینے میں زیادہ پختہ اعتماد دیا تھا۔

وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیزبن سلمان نے سعودی عرب کے ملکیتی ایم بی سی گروپ کے ٹی وی چینلوں پر نشر کی جانے والی دستاویزی سیریز کے ایک حصے میں کہا کہ مارچ 2020 میں گروپ کے سربراہ کے روس کے ساتھ فیصلے تعطل کا شکار تھے، الریاض کووڈ-19 کی وَباکے جواب میں تیل پیداوار میں کمی کرنا چاہتا تھا، لیکن کریملن انتظارکرنا چاہتا تھا۔

جب وزیر نے ولی عہد کو بتایا کہ گروپ تیل پیداوار کے کوٹے کے بارے میں کسی معاہدے پرنہیں پہنچا ہے توانھوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی "زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت" پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اوپیک لیڈرشپ کے عنوان سے پیش کی جانے والی اس قسط میں سعودی وزیر نے کہا کہ’’میں واقعی گھبراگیا تھا، میں اس بارے میں جھوٹ نہیں بولوں گا کہ میں اس وقت کیسا تھا‘‘۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے دورِوزارت کے صرف چھے ماہ بعد اس فلیش پوائنٹ نے سعودی عرب کودنیا میں تیل کے سب سے برآمد کنندہ ملک کی حیثیت سے خود کو منوانے کا زیادہ یقین دلایا۔ یہ بات رواں ماہ 2 اپریل کو اس وقت واضح ہو گئی جب سعودی عرب نے اوپیک پلس کی قیادت میں یومیہ 10 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل کی پیداوارمیں اچانک کٹوتی کا اعلان کیا جس سے توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی۔

وزیرنے 2020 کی صورت حال کے بارے میں کہا:’’ہم خود اعتمادی اور ایک بے مثال فتح کے ساتھ اس سے باہرآئے ہیں‘‘۔

اس سے قبل شہزادہ عبدالعزیز نے ولی عہد کو خبردارکیا تھا کہ ان کے اس فیصلے سے مارکیٹیں کھلنے پر قیمتوں میں شدیداورحد سے زیادہ گراوٹ آسکتی ہے اورسعودی آرامکو کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے رعایت کی پیش کش کرنا پڑے گی کہ اس کے پاس کافی خریدارموجود ہیں۔اس کے باوجود سعودی ولی عہد نے کہا کہ ’’اب بھی آگے بڑھو اورڈھکنوں کو کھول دو‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ وہ آرامکو کے عہدے داروں کے ایک کمرے میں واپس آئے اور ان سے کہا:’’چلو یہ کرتے ہیں ، مجھے ایسا کرنے کی ہدایات ہیں‘‘۔وہ بتاتے ہیں کہ آرامکو کے ڈاؤن اسٹریم آپریشنز کے سربراہ محمد القحطانی کھڑے ہوئے اور’’میں نے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے‘‘۔

شہزادہ عبدالعزیز نے کہا کہ ’’یہ فخر اور خوشی کا آنسو تھا۔ وہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا دن ہے۔ اس کے بعد ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے اورسچ کہوں تو ہم سب نے تالیاں بجائیں‘‘۔

بالآخرسعودی عرب کی حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔ اس سال اپریل کے وسط میں جب اوپیک پلس کا اجلاس ہوا تو اس کے ارکان نے یومیہ 97 لاکھ بیرل تیل کی کٹوتی پر اتفاق کیا۔یہ مقدار ایک کروڑ کی ابتدائی تجویز سے تھوڑا کم ہے۔

سعودی وزیرنے 2020 کے فیصلے کے بارے میں کہا:’’یہ قیمت کا معاملہ نہیں تھا، یا منافع یا آمدنی کا معاملہ بھی نہیں تھابلکہ، یہ 'ہونے یا نہ ہونے' کا معاملہ ہے کہ اس شعبے کا مالک کون ہو گا؟‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں