مسک کی’سب کچھ ایپ‘سے متعلق قیاس آرائیاں، ٹویٹرکا ایکس کارپوریشن میں انضمام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ٹویٹرانکارپوریٹڈ نے ایکس کارپوریشن کے نام سے نوتشکیل شدہ شیل فرم کے ساتھ انضمام کے بعد ایک آزاد کمپنی کی حیثیت سے کام ختم کردیا ہے جس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ ایلون مسک اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے لیے اب کیا ارادہ رکھتے ہیں۔

کیلی فورنیاکی ایک عدالت میں ٹویٹراور اس کے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر جیک ڈورسی کے خلاف قدامت پسند کارکن لورا لومر کی جانب سے دائرمقدمے کے لیے 4 اپریل کو جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے مطابق ’’ایکس کارپوریشن میں ضم ہونے کے بعد اب ٹویٹرکمپنی کا کوئی وجود نہیں رہاہے‘‘۔

یہ واضح نہیں کہ ٹویٹر کے لیے اس تبدیلی کاکیا مطلب ہے، جس میں گذشتہ سال ایلون مسک کی جانب سے کمپنی کو 44 ارب ڈالر میں خریدنے کے بعد سے بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ارب پتی مالک نے ماضی میں مشورہ دیا تھا کہ ٹویٹر کو خریدکرنے کے بعدایکس میں ضم کرنے کا ایک آسان طریقہ ہوگا۔اسے انھوں نے "سب کچھ ایپ" قرار دیا تھا۔ مسک نے منگل کے روز اس اقدام کے بارے میں ٹویٹ کیا جس میں واحد کردار "ایکس" شامل تھا۔

دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص نے ایکس کو چین کی وی چیٹ کی طرح بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جو ٹینسینٹ ہولڈنگز لمیٹڈ کی ملکیت والی ایک سپر ایپ ہے جو ادائی اور ایونٹ ٹکٹوں کی بکنگ سے لے کر پیغام رسانی تک ہر چیز کے لیے استعمال ہوتی ہےلیکن وہ اس بارے میں مبہم رہے ہیں کہ یہ ان کی وسیع کاروباری سلطنت کے ساتھ کس طرح فٹ ہوگا،جس میں الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا انکارپوریٹڈ سے لے کر اسپیس ایکسپلوریشن ٹیکنالوجیز کارپوریشن تک شامل ہیں۔مسک ڈومین "X.com" کے بھی مالک ہیں۔انھوں نے ایکس ڈاٹ کام آن لائن رقوم کی ادائی کے لیے قائم کی تھی اور پھر یہ ’’پے پال‘‘ میں ضم ہوگئی تھی۔

ایلون مسک نے سب سے پہلے ریاست ڈیلاویئر میں تین ہولڈنگ کمپنیاں قائم کی تھیں۔ان کا نام "ایکس ہولڈنگز" رکھا گیا تھا۔ لیکن ریاست میں جمع کرائے گئے ریکارڈ کے مطابق ایکس کارپوریشن 9 مارچ کو نیواڈا میں قائم کی گئی تھی اور اس کا ٹویٹرکے ساتھ انضمام 15 مارچ کو پیش کیا گیا تھادستاویزات سے پتاچلتا ہے کہ مسک اس فرم اور اس کی سرپرست کمپنی ایکس ہولڈنگز کارپوریشن کے صدر ہیں۔ یہ گذشتہ ماہ قائم کیا گیا تھا اوراس کا مجاز سرمایہ بیس لاکھ ڈالر ہے۔

اس اقدام نے ٹویٹر پرشدید قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ،مسک کی ٹویٹ کو چند گھنٹوں کے اندر ایک کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ جاپان میں 'ٹویٹر گون' کا موضوع ٹرینڈ کرنے لگا، صارفین نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ٹویٹر کا نیا نام مقامی راک بینڈ ایکس جاپان سے مشابہت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں