ہرات: پارکس سے ملحق ریسٹورنٹس میں خواتین کے جانے پر پابندی

تمام ریسٹورنٹس میں فیملی اور خواتین پر پابندی کی خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں: طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

طالبان نے شمال مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں خاندانوں اور خواتین کو باغات والے ریستورانوں میں جانے سے روک دیا۔ طالبان کے عہدیدار نے پیر کو بتایا کہ یہ قدم ایسے مقامات پر مردوں اور خواتین کے اختلاط کی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ پابندی کا اطلاق صرف ہرات میں ہوگا۔

طالبان کے عہدیدار باز محمد نذیر نے میڈیا کی ان خبروں کی تردید کردی ہے کہ تمام ریستورانوں پر خاندانوں اور خواتین کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔ باز محمد نے ان خبروں کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق صرف ان ریستورانوں پر ہوگا جہاں پارکس وغیرہ ہیں جہاں مرد اور خواتین مل سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا علماء اور شہریوں کی بار بار شکایات کے بعد ہم نے نئی پابندیاں لگائیں اور ان ریستورانوں کو بند کر دیا۔

واضح رہے اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خواتین پر مختلف پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ لڑکیوں کو چھٹی جماعت کے بعد سکول جانے سے روک دیا گیا۔ یونیورسٹیوں اور زیادہ تر ملازمتوں میں خواتین کے داخلہ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ خواتین کو عوامی مقامات جیسے پارکس اور جم میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں