ایردوآن کوانتخابات میں جیت کےلیےبیوٹی کوئین،فٹبالر،کم عمرامیدواراورصحافیوں کاسہارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ تُرک صدر رجب طیب ایردوآن کو کسی حد تک تشویش ہے کہ ترکیہ میں 14 مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں وہ اپنے مرکزی حریف "ریپبلکن پیپلزپارٹی" کے رہ نما کمال کلیچدار اوگلو کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ صدارتی انتخابات کے نتائج ان کی مسلسل حکمرانی کو کم کر دیں گے۔ وہ 20 سال سے مضبوط ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی انتخابی مہم کو نئے اسلحہ کے ذریعے مؤثر بنانے کی کوشش کی ہے جس میں بہت سے پرکشش پیش کشیں اور ترک ووٹروں کے لیے زبردست اپیل ہے۔

600 رکنی پارلیمنٹ میں پارلیمانی نشست کے لیے سابق ترک جرمن فٹ بالر 34 سالہ مسعود اوزیل کی نامزدگی ان کی پیشکشوں میں شامل ہے۔

سابق ترک ماڈل اور بیوٹی کوئین سیڈا ساریباش کو بھی ریاست آیدن کی ایک اور نشست کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ ایردوآن نے اتاترک یونیورسٹی میں نیسا الپٹیکن کو بھی امیدوار نامزدکیا ہے۔ اس کی عمر صرف 18 سال ہے اور وہ ترکوں میں "خوشگوار دوشیزہ" کے لقب سے مشہور ہیں۔ انہیں ازمیر ریاست کے پہلی کمشنری میں پارلیمانی نشست کے لیے امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

الپٹیکن نے گذشتہ ہفتے ترکیہ کی "اخلاص نیوز ایجنسی" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امیدواری پر اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "میرے 3 بھائی سیاست میں سرگرم ہیں اور میرے والد سابق رکن پارلیمنٹ اسماعیل الپٹیکن جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی[آق] کے بانی رہ نماؤں میں شامل ہیں۔ میرے خاندان کے بہت سے افراد سیاست میں کام کرتے ہیں"۔

اردگان اور سابق بیوٹی کوئین، اور ایک تصویر جب وہ 2019 میں کھلاڑی اوزل کی شادی میں موجود تھے
اردگان اور سابق بیوٹی کوئین، اور ایک تصویر جب وہ 2019 میں کھلاڑی اوزل کی شادی میں موجود تھے

بیوٹی کوئین ترکیہ کی ایک کاروباری شخصیت سادات سریباش کی اہلیہ اور دو بچوں کی ماں ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 40 سال ہے اور انہیں دو سال قبل جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے 75 ارکان پر مشتمل مرکزی فیصلہ اور عملدرآمد باڈی کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔

وہ ایک سابق ماڈل ہیں جنہوں نے 2006 میں ’مس ترکی‘ کا ٹائٹل جیتا تھا۔ اس کے بعد 2009 ء انہوں نے پارٹی کی یوتھ برانچ میں اپنا سیاسی کام شروع کیا اور 2016 میں انہیں آئڈن شہر میں خواتین کی برانچ کی سربراہ کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ وہ اصل میں اضنا سے ہیں اور استنبول میں پلی بڑھیں اور وہی رہائش پذیر ہیں۔

میدان جنگ میں صحافی اور کھلاڑی

سریباش نے انقرہ کی غازی یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کی۔ اناطولیہ یونیورسٹی سے معاشیات کی تعلیم بھی حاصل کی اور عدنان میندیرس یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، پھر شادی کے بعد ماڈلنگ کا کام چھوڑ دیا۔ انہوں نے ایفیلر نامی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ وہ ایندھن کی تجارت میں سرگرم ہیں اور 4 اسٹیشنوں کی مالک ہیں۔

جہاں تک فٹ بال اسٹار اوزال کا تعلق ہے وہ ریال میڈرڈ اور آرسنال کے سابق پلے میکر ہیں۔ جرمنی کے ساتھ 92 بین الاقوامی میچ کھیل چکے ہیں۔ 2018 میں بین الاقوامی مقابلے سے ریٹائر ہونے کے بعد سے وہ ایردوآن کے حامی بن گئے ہیں۔

برطانوی اخبار’دی ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کےمطالعے سے گذری ہے۔ اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ایردوآن کے انتخابی ہتھیاروں سابق فٹ بال اسٹار اوزال بھی شامل ہیں۔ وہ جرمنی کے سب سے باصلاحیت اور مشہور کھلاڑیوں میں سے ایک تھے، خاص طور پر انہوں قومی ٹیم کو برازیل میں 2014 کا ورلڈ کپ بھی جتوایا تھا۔

ایردوآن کے انتخابی میدان میں بھی ٹی وی پیش کار مہمت شاہین نے کہرامان مرعش میں پارلیمانی نشست کے لیے امیدوار ہیں۔ صحافیہ شبنم بورصلی نے ازمیر کے ایک حلقے سے اردوآن کی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی تیاری شروع کی ہے۔ ایک اور صحافیہ حلیمہ کوکشی بھی ایردوآن کے امیدواروں میں شامل ہیں جو استنبول کے حلقہ تین سے الیکشن لڑیں گی۔

ریاست انطالیہ میں کھیلوں کے ریفری قدسی مفتی اوگلو کے ساتھ ساتھ استنبول کے تیسرے حلقے میں گلوکار اور موسیقار یوگل آرزن اور ریاست مانیسا کے لیے اداکار بہادر ینی شیہرلی اوگلو کو بھی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں