ٹرمپ کی افغانستان سے انخلا پر تنقید، طالبان کو دھمکی دینے کا دعویٰ

انخلاء کے دوران امریکا افغانستان سے خالی ہاتھ لوٹا، سب کچھ طالبان کو دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے طالبان کے سپریم لیڈر کو ان کے گھر کی تصویر بھیجی اور کہا کہ اگر وہ " امریکی مفادات کے خلاف کچھ بھی کریں گے" تو اُنہیں سخت ضرب لگائی جائے گی۔

فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے تصدیق کی کہ اس دھمکی کے بعد طالبان کے کوئی حملے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیغام ’عبدول‘ کے ذریعے بھیجا گیا تھا۔ ان کا اشارہ طالبان رہ نما ملا عبدالغنی برادرکی طرف تھا۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے فاکس نیوز کے اینکر ٹکر کارلسن سے 2021 میں افغانستان سے انخلاء کے بارے میں بات کی۔انہوں نے کہا کہ میں اس انخلاء کو امریکا کے لیے سب سے زیادہ شرمناک سمجھتا ہوں کیوں کہ انھوں نے سب کچھ چھوڑ دیا یہاں تک کہ امریکا خالی ہاتھ لوٹا۔ انہوں نے اپنے کتے جن میں زیادہ تر جرمن نسل کے تھے وہیں چھوڑ دیے۔

سابق امریکی صدر جو پورن ادا کارہ کو تعلقات چھپانے کے عوض بھاری رقم دینے سمیت 34 مختلف فوج داری کیسز کاسامنا کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کتوں سے محبت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو کتوں سے محبت کرنے والے جانتے ہیں، ان میں سے بہت سے ہیں، میں کتوں سے محبت کرتا ہوں، آپ کتوں سے محبت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے کتوں کو چھوڑ دیا۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہیں موصول ہونے والے سوالات میں سے ایک یہ تھا کہ "انہوں نے کتوں کے ساتھ کیا کیا؟" ان میں سے زیادہ تر جرمن شیفرڈ تھے۔ "انہوں نے انہیں چھوڑ دیا۔"

ڈونلڈ ٹرمپ فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے

سابق امریکی صدر امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کا جواب دے رہے تھے جس میں انہیں اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے لیے طالبان کے ساتھ طے شدہ انخلاء کی منصوبہ بندی میں ناکامی کے لیے مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلاء میں ناکامی کے ذمہ دار صرف صدر جو بائیڈن ہیں اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ نئی رپورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ کو انخلاء کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، گمراہ کن ہے۔

ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کو فضائی انخلاء سے پہلے افغانستان سے فوج کے انخلاء، ملک میں 85 ارب ڈالر کا امریکی فوجی سازوسامان چھوڑنے اور ہوائی اڈے پر حملے میں دو درجن سے زائد امریکی فوجیوں کو کھونے پر تنقید کی۔

رپورٹ کے ایک خلاصے میں، جسے غیر اعلانیہ کرکے کانگریس کے حوالے کیا گیا تھا، وائٹ ہاؤس نے زور دیا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنی پوری کوشش کی ہے۔

انتظامیہ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور طالبان کے درمیان طے شدہ معاہدے کو بائیڈن حکومت کو مشکل میں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سے کسی کو بھی افغان حکومت کی افواج کے تیزی سے خاتمے کی توقع نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں