مصری ماہی گیر کو جل پری کا شکار مہنگا پڑا، عوام میں شدید غصہ، ماہی گیر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرکے ایک ماہی گیرنے جل پری کا شکار کرکےعوامی حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا دروازہ کھول دیا۔ عوامی حلقوں کی طرف سے اس کے اس اقدام پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ اس ماہی گیر کواندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرکے وہ مصری حلقوں میں بڑے پیمانے پر غم وغصے کا باعث بنے گا۔ جل پری کا شکار اسے مہنگا پڑا اور قانونی کی خلاف ورزی پر اسے گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے خطرے سے دوچار جل پری کا شکار کرنے والے شخص پر سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پرشکار کی گئی جل پری کی تصویر سامنے آنے کے بعد شہری ماہی گیر پرسخت برہم ہیں۔

یہ جنگلی حیات، سیاحت کو نقصان پہنچاتا اور لوگوں کا رزق ضائع کرتا ہے

ماہی گیر ایک چھوٹی مچھلی پکڑنے والی کشتی "فلوکہ" چلاتا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ کشتی پر ’ڈوگونگ‘ سمندری جانور تھا جسے "دی مرمیڈ" یا جل پری بھی کہا جاتا ہے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں کہ آیا شکار کا یہ واقعہ اور کہاں کا ہے۔

فیس بک پرایک صارف نے لکھا کہ ’جل پری‘ ایک نایاب سمندری مخلوق ہے اور یہ زیادہ تر جنوبی قاہرہ یا بحیرہ احمر میں مرسی علم بندرگاہ کے قریب پائی جاتی ہے۔

ماہی گیر کیا کہتا ہے؟

سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے بعد ماہی گیر نے خاموشی توڑتے ہوئے ماہی گیر نے کہا کہ میں نے اسے واپس سمندر میں پھینک دیا تھا۔

فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک مختصر ویڈیو کلپ کے ذریعے ماہی گیر کا کہنا ہے کہ جہاں تک مچھلی کا تعلق ہےہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ یہ میرے پاس آگئی تھی۔ میں نے اپنی پوری زندگی سمندر میں گذاری اور پہلی بار میں نے اسے دیکھا۔ اسے کشتی پر نکالا، چلایا اور نرمی واپس سمندر سمندر میں پھینک دیا۔"

سوشل میڈیا پراس واقعے نے اتنا طول پکڑا کہ وزارت ماحولیات کو مداخلت کرنا پڑی۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ماہی گیر کو گرفتار کرلیا ہے اور اس کے خلاف ممنوعہ سمندری جاندار کے شکار پر قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں