اشرف حکیمی کی سابقہ اہلیہ کا آدھی ملکیت کا دعویٰ ناکام، اثاثے والدہ کے نام نکلے

سابق اہلیہ نے طلاق کے وقت مراکشی فٹبالر اشرف حکیمی کے اثاثوں کا نصف اور بھاری رقم کا تقاضا کیا تاہم ان کا خواب چکنا چور ہوگیا جب انہیں بتایا گیا کہ حکیمی کے نام پر کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس جو کچھ ہے وہ ان کی والدہ کے نام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مراکش کے فٹبالر اشرف حکیمی کی سابقہ اہلیہ ہبہ عبوک کھلاڑی کی نصف جائیداد حاصل کرنے کے دعوے میں ناکام ہو گئیں کیونکہ حکیمی کے نام پر مبینہ طور پر کچھ نہیں ہے۔

ہسپانوی روزنامہ مارکا نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ ان کی تمام جائیداد کی مالک ان کی والدہ نکلیں۔

تفصیلات کے مطابق سابق اہلیہ نے طلاق کے وقت حکیمی کے اثاثوں کا نصف اور بھاری رقم کا تقاضا کیا تاہم ان کا خواب چکنا چور ہوگیا جب انہیں بتایا گیا کہ حکیمی کے نام پر کچھ نہیں ہے اور ان کے پاس جو کچھ ہے وہ ان کی والدہ کے نام ہے، یہاں تک کہ ان کی تنخواہ سے بھی صرف ان کی والدہ مستفید ہو سکتی ہیں۔

هبة عبوك حكيمي
هبة عبوك حكيمي

واضح رہے کہ جون میں مراکش ورلڈ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق، اشرف حکیمی چھٹے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے افریقی فٹبالر ہیں، جو ہر ہفتے $215,000 سے زیادہ کماتے ہیں۔

ہبہ عبوک اور حکیمی 2018 میں ملے تھے جب وہ جرمنی میں ڈورٹمنڈ کے لیے کھیل رہے تھے، وہ ان سے بارہ سال بڑی ہیں اور ہسپانوی کرائم ڈرامہ ایل پرنسپے میں اپنے کردار کی وجہ سے پہچان پائی۔ ان کے دو بچے ہیں۔

مراکش کی قومی ٹیم کے سٹار اشرف حکیمی کئی بار اپنی والدہ کے ساتھ والہانہ محبت اور عقیدت کے اظہار کے سبب عوام کی توجہ کا مرکز بنتے رہتے ہیں۔ وہ کھیل کے میدان، سوشل میڈیا اور انٹرویوز میں اپنے والدین کے ساتھ وابستگی پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اوردنیا بھر میں والدہ سے محبت کا آئیکون بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں