روس کے ساتھ لین دین کرنے والی کمپنیوں کے خلاف امریکاکی پابندیوں پرچین کااحتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

چین نے روس سے لین دین کرنے والی اپنی کمپنیوں کے خلاف امریکاکی حالیہ پابندیوں پر احتجاج کیا ہے اور اس اقدام کو غیرقانونی قراردیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ امریکا کی قدغنوں سے عالمی سپلائی چینز کو خطرہ لاحق ہے۔

امریکا کے محکمہ تجارت نے چین اور ہانگ کانگ میں قائم پانچ کمپنیوں کو ممنوعہ اداروں کی فہرست میں شامل کیا ہے اورانھیں کسی بھی امریکی کمپنی کے ساتھ تجارت کرنے سے روک دیا ہے۔

واشنگٹن یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کو مدد مہیاکرنے والی غیرملکی کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کوسخت کررہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ماسکو یا امریکاکے ساتھ تجارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبورہیں۔پابندیاں کا شکارکمپنیوں کی فہرست میں مالٹا سے لے کر ترکی اور سنگاپور تک کے 28 اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔

چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہاہے کہ امریکا کے اقدام کی کوئی بین الاقوامی قانونی بنیاد ہے اور نہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایسے اقدام کا مجازہے۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ چین اس کی سختی سے مخالفت کرتاہے۔یہ ایک عام یک طرفہ پابندی ہے جو کاروباری اداروں کے جائز حقوق اورمفادات کو شدید نقصان پہنچاتی ہے اورعالمی سپلائی چین کی سلامتی اوراستحکام کو متاثرکرتی ہے۔

اس نے مزید کہا کہ امریکاکو فوری طور پراپنے غلط کاموں کودرست کرنا چاہیے اورچینی کمپنیوں کوغیر معقول طورپردبانے کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔چین اپنی کمپنیوں کے جائزحقوق اورمفادات کا بھرپور تحفظ کرے گا۔

امریکا نے چین کی جن کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عاید کی ہیں، ان کے نام یہ ہیں:آل پارٹس ٹریڈنگ کمپنی لمیٹڈ،ایوٹیکس سیمی کنڈکٹرلمیٹڈ،ای ٹی سی الیکٹرانکس لمیٹڈ،میکسٹرونک انٹرنیشنل کمپنی لمیٹڈاور ایس ٹی کے الیکٹرانکس کمپنی لمیٹڈ شامل ہیں۔یہ مؤخرالذکرکمپنی ہانگ کانگ میں رجسٹرڈ ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں ایسے اداروں کی نشان دہی کی گئی ہے جن کے بارے میں امریکاکو شبہ ہے کہ وہ اس کی قومی سلامتی یا خارجہ پالیسی کے مفادات کے منافی سرگرمیوں میں ملوّث ہیں یاان کے ملوّث ہونے کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ جن اداروں کا نام لیا گیا ہے انھیں 'ملٹری اینڈ یوزرز'کے طور پر نامزد کیا گیا ہے جو 'برآمدی کنٹرول سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں اور روس کے فوجی یا دفاعی صنعتی اڈے کی حمایت میں امریک کی ساختہ اشیاء حاصل کرنے یا حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

چین کااحتجاج فروری میں جاری ہونے والے احتجاج سے ملتاجلتا تھاجب امریکا نے چینی کمپنی چانگشا تیانی اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کمپنی لمیٹڈ کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

محکمہ خارجہ کاکہنا ہے کہ کمپنی نے روس کے ویگنر گروپ کی نجی فوج سے وابستہ اداروں کو یوکرین کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں جو ویگنر کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کرتی ہیں۔اسپیسٹی چائنا کے لکسمبرگ میں قائم ذیلی ادارے کو بھی قدغنوں کا نشانہ بنایا گیا۔

چین کی وزارت خارجہ نے امریکا پرالزام عاید کیا تھا کہ وہ یوکرین کو دفاعی ہتھیار مہیاکرنے کی کوششوں کو تیزکرتے ہوئے اس کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے’’سراسرغنڈہ گردی اوردُہرا معیار‘‘اپنا رہا ہے۔

چین کا مؤقف رہا ہے کہ وہ اس تنازع میں غیرجانبدار ہے جبکہ روس کی سیاسیاور معاشی حمایت ایک ایسے وقت میں کر رہا ہے جب مغربی ممالک نے اس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کر رکھی ہیں اورہمسایہ ملک یوکرین پرحملے کے لیے ماسکو کو تنہا کرنے کی کوشش کی ہے۔

چین نے روس کے اقدامات پر تنقید کرنے سے بھی انکارکیا ہے،اس کے خلاف مغرب کی اقتصادی پابندیوں کو تنقید کانشانہ بنایا ہے اور ماسکو کے ساتھ تجارتی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے گذشتہ ماہ ماسکو کا دورہ کیا تھا اور چین نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ وزیردفاع جنرل لی شانگ فو اپنے ہم منصب سرگئی شوئیگو اور دیگر فوجی حکام سے بات چیت کے لیے آیندہ ہفتے روس کا دورہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں