سوڈان: فوج اورسریع الحرکت فورسز میں جھڑپیں، دونوں کا صدارتی محل پر کنٹرول کا دعویٰ

جھڑپوں سے خرطوم ایئر پورٹ پر خوف و ہراس، زمین پر پڑے مسافروں کی چیخ پکار کے مناظر کی ویڈیوز وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوڈانی دارالحکومت خرطوم میں سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ جھڑپوں میں ہلکے اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ دونوں فریقوں نے دارالحکومت کے ایئرپورٹ اور صدارتی محل پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسے مناظر کی ویڈیو پوسٹ کی گئی ہیں جن میں آج کل سوڈانی فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کے باعث خرطوم ایئرپورٹ کے اندر پھیلے ہوئے خوف و ہراس کی منظر کشی کی گئی ہے۔ گردش کرنے والی ویڈیو میں خوفزدہ مسافروں کو زمین پر پڑے دکھایا گیا، ان مسافروں کی چیخیں گونج رہی ہیں۔


جھڑپیں کیسے شروع ہوئیں؟

واضح رہے "العربیہ‘‘ اور ’’الحدث" کے نامہ نگار نے ہفتے کے روز اطلاع دی کہ یہ مسلح تصادم شدید فائرنگ کی آوازوں کے ساتھ شروع ہوا۔ جھڑپیں خرطوم کے جنوب میں سپورٹس سٹی میں ریپڈ ایکشن فورسز کے ہیڈ کوارٹرز کے قریب شروع ہوئیں۔ بعد میں خرطوم کے شمال اور مرکز میں بھی پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ صدارتی محل اور ایئرپورٹ کے آس پاس سکیورٹی فورسز کی مزید نفری تعینات کیے جانے کے بعد جھڑپوں میں مزید شدت آگئی ہے۔


نامہ نگار نے واضح کیا کہ جھڑپیں خرطوم اور ام درمان کے درمیان سفید نیل کے پل تک پھیل گئیں۔ تمام گلیوں میں فوج اور سیکورٹی فورسز کی وسیع تعیناتی اور بکتر بند گاڑیوں اور ٹینکوں کی تعیناتی دیکھی گئی ہے۔
ملک کی شمالی ریاست میں واقع مروی ایئربیس کے اطراف اور اس کے اندر پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جہاں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس کی کیفیت رہی۔


فوجی اڈے کے اندر سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے تھے۔اس سے چند روز قبل ملک کی دو سب سے بڑی افواج کے درمیان ایک سنگین تنازع پیدا ہوگیا تھا۔

سوڈانی فوج کی کارروائی

سریع الحرکت فورسز نے ایک بیان میں فوج پر خرطوم کے علاقے سوبا میں واقع اپنے ہیڈ کوارٹرز پر چھاپہ مارنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نیم فوجی دستوں نے اس کارروائی کو بزدلانہ قرار دیا اور کہا کہ ہر قسم کے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا۔ بیان میں وضاحت کی گئی کہ صبح کے وقت مسلح افواج کی ایک بڑی تعداد نے سوبا کیمپ گراؤنڈز کا محاصرہ کیا اور پھر اس پر ہر قسم کے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے حملہ کر کے اسے حیران کر دیا۔

یہ کشیدگی اور جھڑپیں اس یقین دہانی کے باوجود شروع ہوگئی ہیں جس میں ایک روز قبل فوج کے کمانڈر عبدالفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی نے کہا تھا کہ وہ ملک میں امن قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔


مروی کے علاقے میں گذشتہ بدھ سے دونوں فوجی دستوں کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب ریپڈ سپورٹ فورسز نے تقریباً 100 فوجی گاڑیوں کو وہاں کے فوجی ایئر بیس کے قریب ایک مقام پر دھکیل دیا جس سے فوج مشتعل ہوگئی۔ فوج نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔ واضح رہے کہ دونوں فورسز کے درمیان گزشتہ اختلافات بھی سکیورٹی اصلاحاتی ورکشاپ کے دوران سامنے آئے تھے جو گذشتہ مارچ میں فوج میں سریع الحرکت فورسز کے انضمام کے حوالے سے منعقد ہوئی تھی ۔ ان اختلافات کے باعث حتمی سیاسی معاہدے کے اعلان کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔


دعوے اورتردید

رائٹرز کے مطابق سریع الحرکت فورسز نے ایئرپورٹ، صدارتی محل اور آرمی کمانڈر عبدالفتاح البرہان کے گھر کا کنٹرول سنبھالنے کا اعلان کردیا۔ مروی میں بھی فوجی اڈے کے کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے۔ سوڈانی فوج نے اس کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس کے دستے صدر کے ہیڈ کوارٹرز اور دارالحکومت کے مرکز میں جنرل کمانڈ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں