ایران:یوکرین کامسافرطیارہ مار گرانے پر10 فوجی اہلکاروں کو قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ایران کی ایک عدالت نے سنہ 2020ء میں تہران کی فضائی حدود میں یوکرین کے مسافرطیارے کو مار گرانے کے واقعے میں ملوّث 10 فوجی اہل کاروں کو سزائیں سنائی ہیں۔ان میں ایک اہلکارکو سب سے زیادہ 10 سال قیدکی سزاسنائی گئی ہے۔

ایرانی عدلیہ کی میزان ویب سائٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب کے ایک کمانڈرکو 10 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ 9 دیگر کو ایک سے 3 سال تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ 8 جنوری 2020ء کوایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے یوکرین انٹرنیشنل ایئرلائنز کی پرواز پی ایس 752 کو تہران سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد مار گرایا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 176 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مسافروں کی اکثریت ایرانی شہریوں کی تھی۔ان کے علاوہ کینیڈا، یوکرین، برطانیہ اورافغانستان سے تعلق رکھنے والے مسافر بھی اس طیارے میں سوار تھے۔

ایران نے ابتدائی طور پر تین دن تک اس حادثے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا لیکن اس کے بعد تہران نے بالآخر طیارے کو مارگرانے کا اعتراف کیا تھا اوراسے 'تباہ کن غلطی' قراردیا تھا۔

اس طیارے کو مارگرانے سے چندگھنٹے قبل ایران نے پاسداران انقلاب کے کمانڈرقاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں عراق میں امریکا کےفوجی اڈوں پر میزائل داغے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں