بھارتی مسلمان سیاستدان پولیس حراست میں کیمرے کے سامنے بھائی سمیت قتل

صحافیوں کے روپ میں 3 افراد ان کے قریب پہنچے اور فائرنگ کر دی، حملہ آوروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر پریاگ راج میں سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کو دن دیہاڑے پولیس کی حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے قتل کر دیا گیا،واقعہ کے ردعمل میں اپوزیشن جماعتوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے قتل کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے شہر اتر پردیش میں پیش آیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق عتیق احمد اور اشرف کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب رپورٹرز ان سے سوالات کر رہے تھے۔ 61 سالہ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف اغوا کے ایک کیس میں 2019 سے گرفتار تھے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نے پستول سر کے قریب لا کر گولی ماری اور دونوں بھائیوں کے زمین پر گرنے کے بعد مزید گولیاں چلائیں۔ اس وقت پولیس اہلکار ان کے پاس دکھائی نہیں دیے۔

ٹی وی کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ کے بعد ہندو انتہا پسندی پر مبنی نعرے بازی کی گئی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں میں سے ایک کے پاس کیمرہ اور دوسرے کے پاس ٹیلی ویژن چینل کا لوگو والا مائیک بھی تھا۔

تاہم پولیس نے بعد میں ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’تینوں ملزمان کو مختلف پولیس سٹیشنز میں رکھا گیا ہے۔‘

قتل کے مقدمے میں سابق ایم ایل اے عتیق اور دیگر دو افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ اشرف کو مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔

دونوں بھائیوں کو پولیس حراست میں میڈیکل چیک اپ کے لیے ہسپتال لائے جانے کے بعد واپسی پر میڈیا سے گفتگو کے دوران گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔

ایک روز قبل ہی مرحوم ایم ایل اے عتیق کے بیٹے کو بھی ایک مبینہ مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔

انڈین حکام کے مطابق اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک تین رکنی کمیشن قائم کر دیا ہے جبکہ کوڈ آف کریمینل پروسیجر کے تحت دفعہ 144 اتر پردیش کے تمام اضلاع میں نافذ کر دی گئی ہے۔

عتیق اور ان کے بھائی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ ہتھکڑی لگے بھائیوں کا قتل اور ہندو انتہا پسندی پر مبنی نعرے ریاست کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ کی امن وامان کے قیام میں ناکامی کا بڑا ثبوت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں