سوڈان: سریع الحرکت فورسز کو تحلیل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈانی جنرل انٹلیجنس سروس نے ہفتے کے روز بتایا کہ سوڈانی فوج کے سربراہ نے سریع الحرکت فورسز کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

ایجنسی نے ایک فیس بک بیان میں کہا ہے کہ آرمی چیف نے "باغی" سپورٹ فورسز میں آرمی افسران کی تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بھی ختم کرنے فیصلہ کیا ہے۔

ہیڈ کواٹر کے قریب فائرنگ

ادھر خرطوم میں سوڈانی آرمی جنرل کمانڈ کے آس پاس میں فائرنگ اور زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ ام درمان میں آئی ڈی ایف اور ملٹری کالج کے قریب جھڑپیں پیش آئیں۔

"کوئی بات چیت یا مذارات نہیں ہو رہے "

یہ فیصلہ سوڈانی آرمڈ فورسز چیفس آف اسٹاف کے چند منٹ بعد ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ"باغی" سریع الحرکت فورسز کے تحلیل سے قبل کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔

فوج نے اعلان کیا تھا کہ سریع الحرکت فورسز کمانڈر نے مسلح افواج کے افسران کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔

"کوئی چارہ نہیں تھا"

فوج کے کمانڈر عبد الفتاح البرہان نے تصدیق کی تھی کہ سریع الحرکت فورسز کی افواج نے ہفتے کی صبح لڑائی شروع کر دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "مسلح افواج کے پاس ان باغیوں کو شکست دینے کے لیے وسائل موجود ہیں اور ان کے پاس ان کے خلاف کارورائی کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں کے مطابق سریع الحرکت فورسز نے صبح کے وقت فوج کے ہیڈ کوارٹر اور اہم علاقوں پر فوری کنٹرول کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

جنرل البرھان نے زور دے کر کہا کہ "مسلح افواج کے لیے کوئی چارہ نہیں۔ اسے باغیوں کے خلاف مجبورا ایکشن لینا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں