"میں مر جاؤں تو پارٹی کرنا" مصری سکرپٹ رائٹر کے بیانات نے تنازع کھڑا کردیا

تامر حبیب نے فنکار سمیر غانم کی موت کے دن خوشی منانے تقریب میں شرکت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا مرحوم کو خوشی بہت پسند تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری سکرپٹ رائٹر تامر حبیب نے عظیم فنکار سمیر غانم کے انتقال کے دن الجونہ میں ایک خوشی منانے کی تقریب میں شرکت کی اور جنازے میں شرکت نہ کی ۔ اس حوالے سے ان پر تنقید کی گئی تو انہوں نے کہا "اللہ سمیر غانم پر رحم کرے، اگر اس کے برعکس ممکن ہوتا تو وہ خوشی میں مر جاتا اور بدقسمتی سے میں الجونہ میں خوش تھا ۔ کیا یہ درست ہوتا میں صبح جنازے میں شریک ہوں اور رات کو خوشی منا رہا ہوں۔

ایک مصری سیٹلائٹ چینل کو انٹرویو کے دوران تامر حبیب نے ایک پیغام بھیجا کہ میں نے اپنے الفاظ لکھے ہیں اور میں انہیں دہرا رہا ہوں کہ جب میں مروں گا تو جو لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں وہ سب میری سوانح حیات پر ایک بڑی پارٹی کریں۔ پارٹی میں وہ گانے چلائے جائیں جو مجھے پسند ہیں۔ اور ان حالات کے بارے میں سوچیں جو آپ کو ہنسائیں، رقص اور خوش ہونے پر مجبور کریں۔ اس طرح میں سب سے زیادہ خوش ہوں گا۔

واضح رہے اداکارہ یسرا کو بھی اپنے ساتھی فنکار سمیر غانم کے انتقال کے دن الجونہ کنسرٹ میں شرکت کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

کوئی شرمندگی نہیں

تامرحبیب نے ہدایت کارہ ایناس الدیگیدی کے اپنے مختلف رجحانات کے حوالے سے حالیہ بیانات اور ان پر ہم جنس پرستی کا الزام لگانے کا بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس کے بیانات اس کے جواب میں تھے جو سمپوزیم کے دوران کہا گیا تھا۔

مصری سکرپٹ رائٹر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فلم "واحد صحیح" میں ہم جنس پرست کردار کو پیش کرنے پر افسوس نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ماڈل ہے جو معاشرے میں موجود ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں