اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سوڈان میں فوری خانہ جنگی روکنے کی اپیل

بیرونی دنیا کی تشویش کی قدر کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال اندرونی معاملہ ہے: سوڈانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پیر کے روز، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوڈان میں فوج اور نیم فوجی گروپ کے درمیان ہفتے کے روز سے جاری شدید خونریز لڑائیوں کی مذمت کی اور " مسلح تصادم روکنے، امن کی بحالی اور بحران کے فوری حل کے لیے بات چیت " کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "سوڈان میں انسانی صورتحال پہلے ہی نازک تھی اور اب تباہ کن ہو چکی ہے۔"

سکریٹری جنرل نے "اس صورتحال پر اثر و رسوخ رکھنے والے تمام گروپوں سے مطالبہ کیا ہے کہ امن کی راہ میں اپنا کردار ادا کریں۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ تصادم میں "مزید اضافہ" ملک اور خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔

فوجی گاڑیوں کا حرطوم کی سڑکوں پر گشت
فوجی گاڑیوں کا حرطوم کی سڑکوں پر گشت

اس سے قبل، سوڈانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال ایک "اندرونی معاملہ" ہے، اور سوڈانی اپنے طور پر کسی تصفیے پر پہنچ جائیں گے۔"

آج، پیر کو، سوڈانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ہفتے کے روز شروع ہونے والے واقعات "عبوری خودمختاری کونسل کے سربراہ کی رہائش گاہ پر حملے اور دارالحکومت اور کچھ دوسرے شہروں میں سوڈانی مسلح افواج کے خلاف سریع الحرکت فورس کی بغاوت کے نتیجے میں ہوئے۔

خرطوم کی گلیوں میں دُو بَدُو لڑائی
خرطوم کی گلیوں میں دُو بَدُو لڑائی

انہوں نے کہا کہ یہ حملہ "خودمختاری کونسل کے صدر، کمانڈر انچیف، اور سریع الحرکت فورسز کے کمانڈر کے درمیان طے شدہ میٹنگ کے دن ہوا ہے۔" جو ان کی جانب سے برے ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں