اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سوڈان میں متحارب فریقوں سے لڑائی روکنے کی اپیل

بیرونی دنیا کی تشویش کی قدر کرتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال اندرونی معاملہ ہے: سوڈانی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سوڈان میں تازہ لڑائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سوڈانی مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز کے لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر پُرتشدد کارروائیاں بند کریں، امن بحال کریں اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کا آغاز کریں۔

انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ میں صورت حال پراثر ورسوخ رکھنے والے تمام لوگوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس کو امن کے لیے استعمال کریں۔تشدد کے خاتمے، قانون کی حکمرانی کی بحالی اور انتقال اقتدارکے راستے پر واپس آنے کی کوششوں کی حمایت کریں۔

انھوں نے مزید کہا کہ سوڈان میں انسانی صورت حال پہلے ہی غیر یقینی تھی اوراب تباہ کن ہو گئی ہے۔

سوڈان کی مسلح افواج اورسریع الحرکت فورسز کے درمیان ہفتے کو خرطوم اور ملک کے دوسرے علاقوں میں جھڑپیں چھڑ گئی تھیں۔ان میں اب تک ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل، سوڈانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ صورتحال ایک "اندرونی معاملہ" ہے، اور سوڈانی اپنے طور پر کسی تصفیے پر پہنچ جائیں گے۔"

آج، پیر کو، سوڈانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ہفتے کے روز شروع ہونے والے واقعات "عبوری خودمختاری کونسل کے سربراہ کی رہائش گاہ پر حملے اور دارالحکومت اور کچھ دوسرے شہروں میں سوڈانی مسلح افواج کے خلاف سریع الحرکت فورس کی بغاوت کے نتیجے میں ہوئے۔


انہوں نے کہا کہ یہ حملہ "خودمختاری کونسل کے صدر، کمانڈر انچیف، اور سریع الحرکت فورسز کے کمانڈر کے درمیان طے شدہ میٹنگ کے دن ہوا ہے۔" جو ان کی جانب سے برے ارادوں کی نشاندہی کرتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں