بھارت :ریاست اتراکھنڈ میں شیرکے مہلک حملوں کے بعد دیہات میں کرفیونافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں شیر کے حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد سیکڑوں دیہاتیوں کورات اندھیرے کے بعد گھروں سے باہر نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے بھارت نے کہا تھا کہ اس کے جنگلی شیروں کی تعداد 3000 سے تجاوزکرگئی ہے لیکن یہ بڑھتی ہوئی تعداد رہائشی علاقوں میں نقصان اور شہری علاقوں مزید حملوں کا سبب بن رہی ہے۔

پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے دواضلاع میں اتوار سے شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اورلوگوں کے گھروں سے باہرنکلنے پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔اسکولوں کو بھی پیر سے دو دن کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پہلی ہلاکت جمعرات کو اور دوسری ہلاکت اتوار کو ہوئی لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان دونوں ہلاکتوں میں ایک ہی شیر ملوث تھا یا ایک سے زیادہ آدم خورشیر ہیں۔

محکمہ جنگلات کے افسرسوپنل انیرودھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں 10 اپریل کو علاقے میں ایک شیر کے بارے میں الرٹ کیا گیا تھا۔اس کے بعد سے ہم علاقے کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا مسلح عملہ بھی جائے وقوعہ پر موجود ہے۔اس علاقے میں جنگلی شکار کی تعداد کم ہے، اس لیے انسان اور مویشی آسان ہدف ہیں۔

حکومت نے گذشتہ سال کہا تھا کہ 2019 اور 2021 کے وسط تک بھارت میں شیروں کے حملوں میں 108 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تحفظ ماحول کے کارکنان نے جنگلات اورجنگلی حیات کی اہم راہداریوں کے آس پاس انسانی بستیوں کی تیزی سے توسیع کوانسانوں اور جانوروں کے درمیان تنازعات میں اضافے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔

گذشتہ سال پولیس نے ایک شیرکوگولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اسے 'چمپارن کا آدم خور' کہا جاتا تھا۔اس نے مشرقی بھارت میں نوافراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت میں شیرجنگل کے اس بادشاہ کی عالمی آبادی کا 75 فی صد پائے جاتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے جاری کردہ تازہ اعدادوشمارکے مطابق، بھارت میں ایک اندازے کے مطابق 3،167 شیر ہیں۔

گذشتہ ایک دہائی میں ان کی تعداد میں بہتری آئی ہے لیکن 2018 اور 2022 کے درمیان ان کی شرح نمو سست ہوکر سات فی صد سے بھی کم ہو گئی تھی اور یہ گذشتہ چار سال میں 30 فی صد سے کم تھی۔

بین الاقومی یونین برائے تحفظ فطرت کے مطابق گذشتہ 100 سال میں شیر عالمی سطح پر اپنی تاریخی رینج کا 93 فی صد سے زیادہ کھو چکا ہے اور اب صرف 13 ممالک میں بکھری ہوئی آبادیوں میں زندہ ہے۔

سنہ 1900ء میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ شیراس کرۂ ارض پر گھوم رہے تھےلیکن 2010 میں یہ تعداد 3200 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔اسی سال بھارت اور شیروں کی آبادی والے 12دیگر ممالک نے ایک معاہدے پر دست خط کیے تھے، جس کا مقصد 2022ء تک ان کی تعداد کو دُگنا کرنا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں