سوڈانی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 97 عام شہری مارے جا چکے: ڈاکٹرز یونین

خرطوم کے بشائر یونیورسٹی ہسپتال میں ایک شیل آگرا، مریضوں اور طبی عملے خوف و ہراس پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوڈان میں ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ نے پیر کی صبح ایک بیان میں بتایا ہے کہ سوڈان میں جھڑپوں کے بعد سے کم از کم 97 شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
یونین نے ایک بیان میں کہا کہ ہفتہ کے روز ملک میں جھڑپوں کے شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 97 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ مرنے والوں کی تعداد میں تمام مرنے والے شامل نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگوں کو نقل و حمل کی مشکلات کے باعث ہسپتالوں میں منتقل نہیں کیا گیا۔
کچھ دیر قبل عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا تھا کہ سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 83 افراد ہلاک اور 1126 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان حالیہ کشیدگی سے قبل اس نے صحت کی سہولیات کے لیے جو طبی سامان تقسیم کیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔
سوڈانی سینٹرل کمیٹی آف فزیشنز نے ایک فوری نوٹس میں کہا کہ خرطوم کے جنوب میں واقع بشائر یونیورسٹی ہسپتال میں ایک آوارہ "شیل" آگرا۔ اس نے مریضوں اور کام کرنے والے طبی عملے کے لیے خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کر دی۔ تاہم اللہ کا شکر ہے کہ ہسپتال کے تمام مریض اور عملہ کے افراد صحت کی اچھی حالت میں ہیں۔
اتوار کو سوڈانی ڈاکٹرز سنڈیکیٹ نے اعلان کیا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 56 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 600 کے قریب پہنچ گئی ہے۔
سوڈان ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ کی ابتدائی کمیٹی نے انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور بین الاقوامی اور علاقائی صحت کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ خرطوم اور مختلف ریاستوں میں جھڑپوں والے علاقوں کے تمام ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات کو امداد فراہم کریں اور طبی سامان فراہم کریں۔

سنڈیکیٹ نے بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق اور سفارتی تنظیموں پر بھی زور دیا کہ وہ مسلح تصادم کے دونوں فریقوں پر لڑائی کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ شہریوں کو محفوظ راستے فراہم کریں، ایمبولینسوں اور طبی عملے کو محفوظ گزرنے کی اجازت دیں اور صحت کی سہولیات اور ہسپتالوں کے لیے ضروری انشورنس فراہم کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں