حزب اللہ کی مالی معاونت پرلبنانی شہری پر برطانیہ کی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

برطانوی حکومت نے منگل کے روز لبنان کی شیعہ ملیشیاحزب اللہ کی مالی اعانت کے شُبے میں ایک لبنانی تاجر کے مکمل اثاثے منجمد کرلیے ہیں۔

برطانیہ کے محکمہ خزانہ نے قومی سلامتی کی بنیاد پر نجم سعید احمد کے خلاف یہ کارروائی امریکا کی 2019ء میں عایدکی گئی اسی طرح کی پابندیوں کے بعدکی گئی ہے۔

بیان میں کہاگیاہے کہ برطانیہ میں نجم سعیداحمد کے تمام اثاثے اورمعاشی وسائل منجمد کردیے گئے ہیں اورکوئی بھی برطانوی شخص ان کے ساتھ یاان کی ملکیت یاکنٹرول والی کسی بھی کمپنی کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتا۔

لندن نے سنہ 2001 میں حزب اللہ کی ایکسٹرنل سکیورٹی آرگنائزیشن کو دہشت گرد تنظیم قراردیاتھا۔اس پابندی کوسات سال بعد اس کے تمام فوجی سازوسامان تک بڑھا دیا گیاتھا۔ایران کی حمایت یافتہ شیعہ تحریک لبنان میں ایک اہم سیاسی کھلاڑی ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق احمد کے پاس برطانیہ میں آرٹ کا وسیع ذخیرہ ہے اور وہ برطانیہ میں مقیم فن کاروں،گیلریوں اورنیلام گھروں کے ساتھ کاروبارکرتے ہیں۔

پابندیوں کامطلب ہے کہ وہ اب برطانیہ کی آرٹ مارکیٹ میں تجارت نہیں کر سکیں گے اور کوئی دوسراڈیلران کے یاان کی کمپنیوں کے ساتھ کاروبار نہیں کرسکے گا۔

دسمبر2019 میں امریکی محکمہ خزانہ نےاحمد کو "حزب اللہ کے سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک" قراردیا، جو'بلڈ ڈائمنڈ'کی تجارت کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کے ذریعے فنڈزحاصل کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں