سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں جنگ بندی شروع ہونے کے بعد فائرنگ کی آوازیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں منگل کے روز متحارب فوجی دھڑوں کے درمیان 24 گھنٹے کی جنگ بندی کے آغازسے چندے قبل فائرنگ کی شدید آوازیں سنی گئی ہیں۔سوڈان کے متحارب فریقوں نے امریکی دباؤ پرایک دن کی جنگ بندی پراتفاق کیا تھا۔

عرب ٹیلی ویژن نیوزچینلز کی لائیو فیڈز کے پس منظر میں شدید فائرنگ کی گونج سنائی دی اور خرطوم کے مکینوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔انھوں نے دریائے نیل کے کنارے واقع خرطوم کے جڑواں شہراُم درمان میں جنگی طیاروں کے اڑنے اور فضائی بمباری کی آوازیں سنی ہیں۔

سوڈان کے فوجی حکمران جنرل عبدالفتاح البرہان کی وفادار فوج اور ان کے نائب جنرل محمد حمدان دقلو حمیدتی کے زیرقیادت سریع الحرکت فورسز کے درمیان تنازع چار روز قبل شروع ہوا تھا۔اقوام متحدہ کے نمایندے کے مطابق ملک بھرمیں جاری لڑائی میں اب تک 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس سے قبل سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے ایک رکن آرمی جنرل شمس الدین قباشی نے العربیہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ بندی باضابطہ طور پرمقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے سے نافذالعمل ہے اور یہ طے شدہ 24 گھنٹوں سے آگے نہیں بڑھے گی۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے منگل کے روز جاپان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان اور نیم فوجی دستوں پرمشتمل سریع الحرکت فورسزکے سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو کو ٹیلی فون کیا ہے اور 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ سوڈانیوں کو محفوظ طریقے سے اہل خانہ سے ملایا جاسکے اورانھیں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

جنگ بندی کی ڈیڈلائن کے قریب آنے کے ساتھ لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ رمضان کے مقدس مہینے میں روزہ افطارکے وقت فریقین میں جنگ بندی آغاز ہونے والی تھی لیکن شام 6 بجے کے بعد دارالحکومت خرطوم کے علاقے میں بھاری گولہ باری کی گونج سنائی دی۔خرطوم میں رائٹرز کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعدانھوں نے ٹینکوں کی فائرنگ کی آواز سنی۔

فائرنگ کا ذریعہ واضح نہیں تھا جبکہ آر ایس ایف نے فوج پر جنگ بندی کے نفاذ کے 15 منٹ کے اندر ہی اس کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔

اس سے قبل خرطوم میں جنگی طیاروں اوردھماکوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔آس پاس کے شہروں ام درمان اوربحری کے رہائشیوں نے فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے جس نے عمارتوں کو ہلاکررکھ دیا اور آگ بھڑک اٹھی تھی۔

رائٹرزکی جانب سے تصدیق کی گئی ایک ویڈیو میں خرطوم میں آرمی ہیڈ کوارٹر کے ایک حصے کے اندر آر ایس ایف کے جنگجوؤں کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن جنگجوؤں نے اس وسیع و عریض جگہ پر کنٹرول حاصل نہیں کیا۔

واضح رہے کہ لیفٹینٹ جنرل عبدالفتاح البرہان 2021 کی فوجی بغاوت اور 2019 میں عوامی مظاہروں کے کے نتیجے میں مطلق العنان سابق صدرعمرالبشیر کی برطرفی کے بعد قائم کردہ حکمراں عبوری کونسل کے سربراہ ہیں اور جنرل حمیدتی اس حکمراں کونسل میں برہان کے نائب ہیں۔

ان کی اقتدار کے لیے کشمکش نے سوڈان میں دہائیوں کی آمریت اور فوجی کنٹرول کے بعد سویلین جمہوری حکمرانی کی طرف منتقلی کے بین الاقوامی حمایت یافتہ منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔اگر تشدد پر قابو نہیں پایا گیا تو سوڈان کے پڑوس سے تعلق رکھنے والے ایسے عناصر کے بھی اس میں کودنے کاخطرہ ہے جو مختلف دھڑوں کی حمایت کرتے ہیں اور روس اور امریکا علاقائی اثرورسوخ کے لیے مسابقانہ کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں