سوڈان کے مسلح متحارب فریق 24 گھنٹے کی جنگ بندی پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں شدید لڑائی کے بعد حریف فوجی کمانڈروں نے منگل کی شام سے 24 گھنٹے کی جنگ بندی پراتفاق کیا ہے۔انھوں نے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن سے فون پرگفتگو کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

سوڈان کی حکمراں فوجی کونسل کے رکن جنرل شمس الدین قباشی نے العربیہ ٹی وی کو بتایا کہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے شروع ہوگی اور طے شدہ 24 گھنٹوں سے آگے نہیں بڑھے گی۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے آرمی چیف اور نیم فوجی سریع الحرکت فورس (آر ایس ایف) کے سربراہ سے الگ الگ ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ان دونوں فورسزکے درمیان طاقت کی کشمکش میں 185 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور دہائیوں کی آمریت اور فوجی حکمرانی کے بعد سویلین انتقال اقتدارکے لیے بین الاقوامی حمایت یافتہ معاہدے کو پٹڑی سے اتار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ سوڈان کے دارالحکومت میں منگل کو چوتھے روز بھی فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں اور اس کے ساتھ ہی جنگی طیاروں اور دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ دریائے نیل کے دوسری جانب خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان کے رہائشیوں نے بھی فضائی حملوں کی اطلاع دی جس سے عمارتیں لرزاٹھیں اور آگ بھڑک اٹھی۔

بلنکن نے کہا کہ پیر کے روز آر ایس ایف سے وابستہ جنگجوؤں کے حملے میں امریکا کے ایک سفارتی قافلے پر فائرنگ کی گئی اور قافلے میں شامل تمام افراد محفوظ رہے۔ انھوں نے اس واقعے کو ’’غیرذمے دارانہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ امریکی سفارت کاروں پر کوئی بھی حملہ یا دھمکی ناقابل قبول ہے۔

بلینکن نے جاپان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے آر ایس ایف کے رہنما جنرل محمد حمدان دقلوالمعروف حمیدتی اور سوڈان کے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان دونوں کو ٹیلی فون کیا ہے اور 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ سوڈانی محفوظ طریقے سے اپنے اہل خانہ سے مل سکیں اورانھیں ریلیف مہیا کیا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے مندوب وولکرپرتھس نے کہا ہے کہ سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان ہفتے کے روز شروع ہونے والی لڑائی میں 185 افراد ہلاک اور 1800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

آر ایس ایف کے سربراہ حمیدتی نے، جن کے ٹھکانے کا انکشاف لڑائی شروع ہونے کے بعد سے نہیں کیا گیا ہے،کہاکہ انھوں نے بلینکن کے ساتھ اپنی کال کے دوران ’’اہم امورپرتبادلہ خیال‘‘ کیا تھا اور مزید بات چیت کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

ٹویٹر پر اپنی ایک پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ آر ایس ایف نے 24 گھنٹے کی جنگ بندی کی منظوری دی ہے۔ آر ایس ایف نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ "اپنے لوگوں کے حقوق" کی بحالی کے لیے مسلسل جنگ لڑ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں