واشنگٹن سوڈان میں لڑائی روکنے کے لیے فوجی قیادت سے رابطے میں ہے:وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان میں امریکی سفارت خانے کے ذرائع نے پیر کی شام ’العربیہ‘ کو اطلاع دی کہ سریع الحرکت فورسزنے سفارت خانے کی ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ذرائع نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز نے جان بوجھ کر گاڑی پر 100 گولیاں داغیں۔

پیر کو وائٹ ہاؤس نے اطلاع دی کہ امریکی حکام سوڈان میں فوجی قیادت کے ساتھ سے رابطے میں ہیں تاکہ وہ فوری طور پر لڑائی کو روکا جا سکے۔

وائٹ ہاؤس نے سوڈان میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا کہ "ہمیں خرطوم اور سوڈان کے دیگر مقامات سے تشدد میں اضافے پر افسوس ہے۔ ہم سوڈانی مسلح افواج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

اس سے قبل سوڈانی فوج نے پیر کے روز سرکاری سرکاری ٹیلی ویژن کی عمارت کا کنٹرول بحال کرنے اور اس پر نشریات کی واپسی کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ سریع الحرکت فورسز نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ ٹیلی ویژن کی عمارت پراس کا کنٹرول برقرار ہے۔

سوڈانی فوج کے ٹی وی کی عمارت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اس نے ایک بیان نشر کیا جس میں سریع الحرکت فورسز کو "ملیشیا" قرار دیا گیا۔

سوڈان میں سریع الحرکت فورسز نے بھی پیر کے روز ام درمان شہر میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر کے کنٹرول کا اعلان کیا اور فیس بک کے ذریعے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ سوڈان کے آس پاس فوجی دستوں کے ساتھ کوئی جھڑپیں نہیں ہوئیں۔

سوڈان کے سرکاری ٹیلی ویژن کی نشریات اتوار کی سہ پہرسے روک دی گئی تھیں۔ ٹی وی کے عملے کا کہناہے کہ اس اقدام کا مقصد فوج کے خلاف لڑنے والی سریع الحرکت فورسز کے لیے کسی بھی قسم کے پروپیگنڈا مواد کی نشریات کو روکنا تھا۔

سریع الحرکت فوسز’آر ایس ایف‘ نے کہا ہے کہ اس نے سرکاری ٹیلی ویژن اور دیگر اسٹریٹجک تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔

سرکاری میڈیا کے ملازمین جنہوں نے شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا نے بتایا کہ حکام نے RSF کے ام درمان میں سوڈان ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مرکزی عمارت میں داخل ہونے کے بعد نشریاتی سگنل کاٹ دیے اور معاون مواد نشر کرنے کے لیے ریڈیو نیٹ ورکس کا استعمال کیا۔

سرکاری ریڈیو اسٹیشنوں سے نشریات بھی منقطع کر دی گئیں

سوموار کی صبح سویرے خرطوم میں مسلح افواج کی جنرل کمان کے آس پاس پرتشدد جھڑپیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ گذشتہ ہفتے کے روز لڑائی شروع ہونے کے بعد سے مسلسل تیسرے دن بھی خرطوم کے بیشتر علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

’’العربیہ" اور "الحدث" کے ذرائع نے بتایا ہے کہ سوڈانی جنگی طیاروں نے دارالحکومت خرطوم کے اوپر سے پروازیں کیں جب کہ دارالحکومت کے جنوب مغرب میں واقع ہوائی اڈے کے آس پاس کے علاقے کو ایک زوردار دھماکے سے ہلا کر رکھ دیا گیا۔ الشجرہ کے علاقے میں آرمرڈ کور کے ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ سوڈانی ڈاکٹروں کی سنڈیکیٹ کے مطابق جھڑپوں کے شروع ہونے کے بعد سے عام شہریوں میں مرنے والوں کی تعداد 97 ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں