خرطوم میں پاکستانی سفارت خانہ متحارب فریقین کی فائرنگ کی زد میں آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان تصادم کے دوران پاکستان کے سفارت خانے کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

خرطوم میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے بدھ کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جھڑپوں میں پاکستانی سفارت خانے پر تین گولیاں لگی ہیں جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔‘

سفارت خانے کا مزید کہنا ہے کہ ’یہ ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کے مطابق میزبان ملک سفارتی مشنز کو سکیورٹی فراہم کرنے کا پابند ہے۔‘

پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں سوڈان میں لڑنے والے فریقین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور سوڈانی حکومت سے پاکستانی سفارت خانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

خرطوم میں پاکستانی سفارت خانے نے مزید کہا ہے کہ ’سکیورٹی کی خراب صورت حال کے سبب تمام پاکستانیوں کو ایک بار پھر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں۔‘

خیال رہے کہ سوڈان میں گذشتہ ایک ہفتے سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جھڑپوں میں 200 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 1800 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

سوڈانی فوج کے آرمی چیف عبدل فتاح البرہان اور آر ایس ایف کے سربراہ محمد حمدان دقلو کے درمیان چند ہفتوں سے جاری اقتدار کی کشمکش کے بعد دارالحکومت خرطوم میں دونوں افواج کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں

پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز کے سوڈانی فوج میں انضمام کے معاملے پر آرمی چیف عبدل فتاح البرہان اور محمد حمدان دقلو کے درمیان اختلافات بڑھنے پر حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔

سنہ 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو ختم کرنے کی غرض سے ہونے والے معاہدے کی ایک اہم شرط آر ایس ایف کا ملکی فوج میں انضمام ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں