سعودی عرب کا دورہ زیرغور؛امسال ایک عرب ملک اسرائیل سےتعلقات استوارکرےگا:کوہن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے بدھ کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کے دورے کا آپشن ان کے زیرغورہے۔انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس سال ایک اور عرب ملک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لائے گا۔

کوہن نے اسرائیل کے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ ’’یہ (سعودی عرب کا دورہ)زیرغورہے ،(لیکن) ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے‘‘۔انھوں نےمزید کہا کہ کم سے کم ایک عرب ملک اس سال معاہدۂ ابراہیم میں شامل ہو جائے گا لیکن انھوں نے اس عرب ملک کا نام نہیں لیا اور نہ کوئی ایسا اشارہ دیا ہے جس سے یہ پتاچلے کہ یہ ملک کون سا ہوسکتا ہے۔

امریکا کی ثالثی میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ابراہیم معاہدے پر دست خط کے بعد سے اسرائیل اس اقدام کومزید ممالک تک وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیل کے اعلیٰ حکام بارہا اس بات پرزوردے چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کا قیام حتمی کامیابی ہوگی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے یہ پیش رفت اہم ثابت ہوگی۔

دوسری جانب سعودی عرب کئی مرتبہ اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرچکا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پرلانے کے لیے کسی بھی قسم کا امن معاہدہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پیشگی شرط ہوگا۔

اسرائیلی عہدے دارعرب ممالک کے ساتھ ایران کو اپنا مشترکہ دشمن قراردیتے ہیں۔ وہ خطے کے لیے اس کے خطرات بشمول اس کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور یمن، لبنان، عراق اور شام جیسے ممالک میں ملیشیاؤں کو اسلحہ مہیا کرنے اور ان کی مالی معاونت کو اس ضمن میں بہ طور ثبوت پیش کرتے ہیں۔

کوہن نےتل ابیب کے اس بیانیے کا اعادہ کیا کہ اسرائیل سعودی عرب کا دشمن نہیں بلکہ اس کا دشمن ایران ہے۔ گذشتہ ماہ سعودی عرب اورایران کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے چین کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر کوہن نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے حق میں کام کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یہی وہ چیز ہے جو سعودی عرب کو اسرائیل کے قریب آنے کے متوازن عمل کا باعث بن سکتی ہے‘‘۔

قبل ازیں سوموار کواسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پرلانا عرب اسرائیل تنازع کے خاتمے کی جانب ایک کلید اور ایک 'بڑی چھلانگ' کے طور پر کام کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں