تونس: گھنٹوں تفتیش کے بعد راشد الغنوشی کو قید کرنے کا حکم دیدیا گیا

ایک ویڈیو میں خانہ جنگی کی دھمکی دیتے نظر آنے کے بعد الغنوشی کو گھر سے حراست میں لیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وکیل مونیا بوعلی نے جمعرات کو بتایا ہے کہ تونس کے ایک تفتیشی جج نے حزب اختلاف کی پارٹی ’’النہضہ موومنٹ ‘‘ کے رہنما راشد الغنوشی کو اندرونی ریاستی سلامتی کے خلاف سازش کرنے کے شبہ میں قید کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بدھ کی شام تونس میں ابتدائی تفتیشی عدالت کے جج نے النہضہ موومنٹ کے رہنما اور ان کی پارٹی کے متعدد رہنماؤں سے ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ریاستی ادارے پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں پوچھ گچھ کی۔

واضح رہے پیر کے روز پولیس نے الغنوشی کو تونس میں ان کے گھر کے اندر سے، پبلک پراسیکیوشن کی طرف سے جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حراست میں لے لیا تھا کیونکہ ان کی ایک ویڈیو وائرل تھی جس میں وہ نہضہ پارٹی کو پیچھے دھکیلنے کی صورت میں ملک میں خانہ جنگی کی دھمکی دیتے نظر آرہے تھے۔ اس ویڈیو کلپ میں الغنوشی نے صدر قیس سعید کے حامیوں کو دہشت گرد اور نابود کرنے والے کے طور پر بیان کیا تھا۔ الغنوشی نے یہ بیان اپوزیشن ’’ سالویشن فرنٹ‘‘ کے اجلاس کے دوران دیا تھا۔ اس کے بعد النھضہ موومنٹ کے 3 رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔

العنوشی کے علاوہ تحقیقات میں 12 افراد کو شامل کیا جائے گا جن میں سے زیادہ تر النہضہ موومنٹ کے رہنما ہیں۔ ان افراد کی سربراہی الغنوشی کے داماد اور سابق وزیر خارجہ رفیق عبدالسلام کر رہے ہیں۔ یہ افراد ملک کی اندرونی سلامتی پر حملہ کرنے کی سازش کر رہے تھے۔ اس حملے کا مقصد ریاست کی ہیئت کو تبدیل کرنا اور تعزیرات کے ضابطہ کے باب 68 اور 72 کے مطابق آبادی کو ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر مجبور کرنا تھا۔

آرٹیکل 68 کے مطابق "ریاست کی اندرونی سلامتی کے خلاف حملے کی سازش کے مرتکب کو 5 سال قید کی سزا دی جائے گی اور اگر اس حملہ کی سازش پر عمل نہ کیا گیا تو اسے دو سال قید کی سزا دی جائے گی۔‘‘

جہاں تک آرٹیکل 72 کا تعلق ہے اس میں کہا گیا ہے کہ حملے کے مرتکب کو ریاست کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے یا آبادی کو ایک دوسرے پر ہتھیاروں سے حملہ کرنے اور تیونس کی سرزمین پر ہنگامہ کرنے پر مجبور کرنے کے لیے موت کی سزا دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں