جنگ بندی کے باوجود خرطوم میں پھر گولہ باری، فائرنگ اور پرتشدد جھڑپیں شروع

سوڈانی فوج نے ملک کے شمال مغرب میں شیورلیٹ بیس پر کنٹرول حاصل کرنے کی ویڈیو نشر کی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سوڈان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد ہی گولیوں کی آواز دوبارہ بلند ہوئی اور جمعرات کی صبح دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کی آگ پھر سے بھڑک اٹھی۔

دھماکوں کی آوازیں دارالحکومت خرطوم میں مسلح افواج کے جنرل کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر اور ریپبلکن پیلس کے آس پاس کے علاقے کے علاوہ مختلف حصوں میں سنائی دی گئیں۔ دھماکوں کی آواز کے بعد خرطوم میں جنرل کمان کے قرب و جوار میں دھواں اور آگ کے شعلے اٹھتے دکھائی دیے جب کہ آس پاس کے علاقوں میں گولوں کی آوازیں اور فائرنگ کے تبادلے کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ "ام درمان" میں جھڑپیں ہوئیں اور جنگی طیاروں نے خرطوم پر پرواز کی۔ سوڈانی فوج نے ملک کے شمال مغرب میں شیورلیٹ بیس کا کنٹرول سنبھالنے کی ویڈیو نشر کی ہے۔

سوڈان میں سریع الحرکت فورسز نے اعلان کیا کہ اس نے آج صبح مغربی ام درمان میں فوج کی طرف سے کیے گئے حملے کا جواب دیا ہے۔۔ اور مغربی ام درمان میں دو فوجی ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا ہے۔"

" ہماری افواج اب بھی اپنی پوزیشنوں اور جنگ بندی کے لیے پرعزم ہیں "

قبل ازیں، ہمارے نامہ نگاروں نے اطلاع دی تھی کہ ایک ہتھیاروں کی دکان میں آگ بھڑک اٹھی، جو "خرطوم 2" کے علاقے میں رہائشی عمارتوں تک پھیل گئی، جب کہ علاقہ مکینوں کی چیخ و پکار بھی سنی گئی۔

اور اس سے پہلے، فورسز فار فریڈم اینڈ چینج کے ایک اہلکار نے کہا کہ جنگ بندی اب تک ناکام رہی ہے، اور یہ برقرار نہیں رہ پائے گی۔

انہوں نے العربیہ اور الحدث کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ "جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ فریم ورک معاہدہ ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اب سیاسی مذاکرات کی طرف واپسی ممکن ہے۔"

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ سوڈانی افواج اہم فتوحات حاصل کر رہی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ فتح کے قریب ہیں، انہوں نے متحارب باغی فورسز کے کمانڈر "حمیدتی" کو ہتھیار ڈالنے اور جنگ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

الزامات

بین الاقوامی کوششوں اور معاہدہ کی پاسداری کے مطالبات کے باوجود دونوں متحارب فریق ایک دوسرے پر سیزفائر کی خلاف ورزی کے الزام لگا رہے ہیں۔

سوڈانی پولیس فورسز کی قیادت نے سریع الحرکت فورس پر معاہدہ کے آغاز کے فوراً بعد جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگایا، اور کہا کہ مؤخر الذکر مسلح افراد کو وزارت داخلہ اور محکمہ ٹریفک پولیس میں لے آیا۔

سوڈانی فوج نے بھی نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ سریع الحرکت فورس نے اس کی پابندی نہیں کی۔

انہوں نے اس پر ہوائی اڈے اور جنرل کمان کی عمارت کے ارد گرد اسٹریٹجک مقامات پر حملے شروع کرنے کا بھی الزام لگایا۔

دوسری جانب، ریپڈ سپورٹ فورسز نے فوجی دستوں کے خلاف اسی طرح کے الزامات عائد کیے اور اس بات پر زور دیا کہ مؤخر الذکر نے بین الاقوامی انسانی قانون ، مشغولیت کے قواعد اور بین الاقوامی ثالثی میں ہونے والے جنگ ​​بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

شدید لڑائی

یہ قابل ذکر ہے کہ اہم مقامات کا کنٹرول ایک بڑی فتح کی علامت بن گیا ہے جو ماہرین کے مطابق دیگر مقامات پر باقی لڑائیوں کو ختم کر سکتا ہے۔

اور دونوں فریقوں کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات سے بھرپور الگ الگ داستان ہے۔

ریاست کے خاتمے کا خدشہ

دونوں فریقوں نے ایک نئی جنگ بندی پر اتفاق کا اعلان کیا تھا جو 24 گھنٹے کی مدت کے لیے نافذ العمل ہوا تھا، یہ آج شام 6 بجے سے شروع ہو کر کل، جمعرات - مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے ختم ہو جائے گا۔

سریع الحرکت فورسز نے بھی اپنی مکمل وابستگی کی تصدیق کرتے ہوئے اسی جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ ملک کی دو بڑی فوجی قوتوں کے درمیان شدید لڑائی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی، جس کا محرک وہ واقعہ تھا جب سریع الحرکت فورس کی تقریباً 100 گاڑیوں نے شمالی ریاست میں واقع مروی اڈے کا رخ کیا، اس کے علاوہ خرطوم میں ان کے مراکز پر بھی کچھ گاڑیاں بھی تھیں۔ اس واقعہ نے فوج کو مشتعل کیا، اور کہا گیا کہ یہ نقل و حرکت غیر قانونی تھی۔

سریع الحرکت فورس نے کہا کہ اس حوالے سے افواج کے ساتھ ہم آہنگی کی گئی تھی ، تاہم اس اقدام کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔

تاہم، باخبر ذرائع نے اس سے قبل العربیہ/الحدث کو تصدیق کی ہے کہ دونوں فریقوں نے ہفتوں قبل فوجی دستوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں