جنگ بندی کے باوجود خرطوم کا بین الاقوامی ہوائی اڈا بمباری کی لپیٹ میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں فوج اور منحرف سریع الحرکت فورسز کے درمیان بدھ کے روز نافذ ہونےوالی جنگ بندی کے باوجود فریقین میں جھڑپیں جاری ہیں۔ ان جھڑپوں میں خرطوم میں جنرل کمان کے آس پاس دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی ہیں۔

ادھر سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے بمباری کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا رہے ہیں۔

جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹے بعد سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے ٹرمینلز میں بھی آگ لگ گئی۔

ہوائی اڈے کے ٹرمینل میں آتش زدگی

خرطوم ہوائی اڈے پر لگنے والی آگ کےمناظر ویڈیوز کی شکل میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیےگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کلپ میں آگ سے دھوئیں کے بادل اٹھ رہے تھے۔ یہ آگ ہوائی اڈے کے ٹرمینلز میں لگی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

ادھر دارالحکومت میں جنرل کمان کے قریب علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد سوڈانی فوج کے ارکان نے جنرل کمان کی عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فوج کی طرف سے عمارت کا کنٹرول سنھبالنے کی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مسلح افواج نے ایک نئی جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ 24 گھنٹے کی مدت کے لیے نافذ العمل ہوا جسے بدھ کی شام 6 بجے سے آج جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق چھ بجے تک نافذ رہے گا۔ تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ دونوں فریق اس معاہدے کی پابندی کریں۔

دوسری طرف سریع الحرکت فورسز نے جنگ بندی کے عارضی معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

ایک بیان میں باغی گروپ نے کہا ہے کہ "ہم مکمل جنگ بندی کے لیے اپنے مکمل عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ دوسرا فریق اعلان کردہ وقت کے مطابق جنگ بندی کی پابندی کرے گا۔"

قابل ذکر ہے کہ سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے مرکز میں واقع جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کے ارد گرد دھماکے اور پرتشدد جھڑپوں کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔

بدھ کو ہوائی اڈے کے اطراف میں لڑائی کے علاوہ سرکاری ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر بھی حملے کیے گئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 15 اپریل کو فوجی تصادم کے آغاز کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہو چکی ہے 2,600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں