عالمی برادری ایرانی احتجاجی تحریک میں مدد کرے: رضا پہلوی کی اسرائیل جا کر اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے آخری شاہ کے بیٹے رضا پہلوی نے بدھ کو اسرائیل کے دورے کے دوران مہسا امینی کی موت کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کو ہلا کر رکھ دینے والی احتجاجی تحریک کے لیے "زیادہ سے زیادہ" بین الاقوامی حمایت کا مطالبہ کردیا۔

رضا پہلوی نے تل ابیب میں اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر گیلا گاملیئل کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ میں یہاں یہ جاننے کے لیے آیا ہوں کہ ہم ایرانی عوام کی آزادی کی مہم میں ان کی مدد کرنے میں کس طرح تعاون کر سکتے ہیں۔

یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ میں رہنے والے رضا پہلوی نے ایران کی غیر ملکی اپوزیشن کے بہت سے اجزاء میں اپنی نمائندگی ظاہر کی ہے لیکن وہ تارکین وطن کے درمیان اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے دوران ان کے والد کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد شاہ کی قیادت میں اسرائیل اور ایران کے قریبی اتحاد کو تلخ دشمنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

ایرانی حکام نے اسرائیل اور ایران کے دیگر دشمنوں پر ایران میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بدامنی کو بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ یاد رہے حجاب نہ کرنے پر خاتون مہسا امینی کو ایرانی اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تو پولیس کی حراست میں ہی 16 ستمبر کو مہسا کی موت ہوگئی تھی جس پر ایران بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

اسرائیل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رضا پہلوی نے دلیل دی کہ موجودہ حکومت کو ختم کرنے میں احتجاجی تحریک کی کامیابی کے لیے بین الاقوامی حمایت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

پہلوی نے کہا کہ تہران کے خلاف پابندیوں کی "زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم" کے متوازی طور پر "میں ایرانی عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ حمایت کی مہم‘‘ کی طرف بلا رہا ہوں۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اس طرح کی حمایت عام ایرانیوں کو ان چیلنجز پر قابو پانے کے لیے صحیح ٹولز فراہم کرے گی جن کا انہیں ظالمانہ حکومت کی طرف سے سامنا ہے۔

رضا پہلوی کے ایران کے سخت دشمن اسرائیل کے دورے کے متعلق پوچھے گئے سوال پر تہران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ "آپ جس شخص کی بات کر رہے ہیں وہ بات کرنے کے لائق نہیں ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں