400 سوڈانی فوجی لڑائی سے بچنے کے لیے چاڈ پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چاڈ کے دارلحکومت نجا مینا سے اعلان سامنے آیا ہے کہ تقریباً 320 سوڈانی فوجی اپنے ملک میں فوج اور سریع الحرکت فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائیوں سے فرار کے بعد سرحد عبور کرکے چاڈ پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے چاڈ کی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد انہیں تحفظ دیا گیا ہے۔ چاڈ کے وزیر دفاع داؤد یایا براہیم نے بتایا کہ ان کے ملک میں آنے والے سوڈانی فوجیوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے العربیہ/الحدث کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ 400 سوڈانی فوجی پناہ کی تلاش میں ان کے ملک میں داخل ہوئے۔

لاکھوں پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہے ہیں

داؤد یایا براہیم نے مزید کہا کہ ان کی افواج نے سوڈان کے ساتھ سرحد پر اپنی پوزیشنیں مضبوط کر لی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حالات کے مستحکم ہونے کے بعد وہ سوڈانی فوجیوں کو اپنے ملک واپس بھیج دیں گے۔

چاڈ کے وزیر دفاع نے نشاندہی کی کہ ان کے ملک نے سوڈان کے بحران کی وجہ سے افریقی یونین اور اقوام متحدہ کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک سوڈان میں جاری شورش کے اثرات آس پاس کے ملکوں میں بھی پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ دارفور میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے ان کا ملک لاکھوں سوڈانی باشندوں کی میزبانی کرتا ہے۔

300 ہلاک

قابل ذکر ہے کہ سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے مرکز میں واقع جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کے اردگرد دھماکے اور پرتشدد جھڑپوں کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔

بدھ کو ہوائی اڈے کے اطراف میں لڑائی کے علاوہ سرکاری ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر بھی حملے کیے گئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 15 اپریل کو فوجی تصادم کے آغاز کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہو چکی ہے 2,600 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں