آئندہ ترک پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی میں کمی کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئیندہ پارلیمانی انتخابات کے بعد قائم ہونے والی نئی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کے تناسب میں کمی ہوگی۔ یہ انتخابات ملک میں 14 مئی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے ساتھ ہی منعقد ہوں گے۔

توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کا تناسب 2018 میں بننے والی پچھلی پارلیمنٹ میں خواتین کی شرکت کے فیصد سے کم رہے گا، جس سے ملک میں خواتین کے حقوق کے علمبرداروں اور تنظیموں کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

ماہر تعلیم اور انسانی حقوق کی کارکن فاطمہ بستان اونصال نے کہا کہ "پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی تقریبا ایک طویل عرصے سے 4% پر رکی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، 2002 میں بھی ایسا ہی تھا، لیکن اس معاملے میں 2007 سے تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔"

دو ہزار سولہ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان گرما گرما بحث کا منظر: فائل فوٹو
دو ہزار سولہ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان گرما گرما بحث کا منظر: فائل فوٹو

وہ ترکیہ میں خواتین اور اقلیتوں کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔ انہوں نے العربیہ کو بتایا، ’’حکمران جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی اپنے دور حکومت میں پارلیمنٹ میں خواتین کی زیادہ نمائندگی کا دعوی کرتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ پارلیمنٹ میں کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی موجودگی کی وجہ سے ہے۔

"پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی موجودہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، کیونکہ اس کے 56 اراکین میں سے 23 خواتین ہیں، اس کے بعد حکمران جماعت 18.56 فیصد کی شرح کے ساتھ ہے، جس کے کل 291 اراکین میں 54 خواتین ہیں۔ اور پھر ریپبلکن پیپلز پارٹی آتی ہے، جس کے پارلیمنٹ میں 138 ارکان میں سے 17 خواتین ہیں۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت کا اعتراف ہونا چاہیے، ورنہ گزشتہ پارلیمانی اجلاسوں اور بلدیاتی انتخابات کے مقابلے میں خواتین کی فیصد کم اور گرتی جائے گی، جن میں خواتین کا تناسب بھی کم رہا ہے۔

ترک انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، سوائے "ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی" کے زیادہ تر جماعتوں میں خواتین کی نمائندگی کم ہو رہی ہے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں