سوڈان: آر ایس ایف عید کی تعطیلات میں 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر راضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان میں پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) نے کہا کہ اس نے عید الفطر کی مسلمانوں کی تعطیل کے موقع پر جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے انسانی انسانی بنیادوں پر 72 گھنٹے کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
فوج کی طرف سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا اور اس کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے فوج کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر میں جنگ بندی کا ذکر نہیں کیا۔
آر ایس ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ جنگ بندی عید الفطر کے بابرکت دن کی مناسبت سے کی گئی ہے۔ اسی طرح شہریوں کو نکالنے کے لیے انسانی راہداریوں کو کھولنے اور انہیں ان کے اہل خانہ کو مبارکباد دینے کا موقع فراہم کرنے کے لیے جنگ بندی کی گئی۔
آر ایس ایف اور سوڈان کی فوج کے درمیان لڑائی ہفتے کے روز شروع ہوئی۔ لڑائی نے مظاہروں کےبعد اسلام پسند مطلق العنان عمر البشیر کی حکومت گرنے کے چار سال بعد اور فوجی بغاوت کے دو سال بعد سویلین جمہوریت میں منتقلی کے بین الاقوامی حمایت یافتہ منصوبے کو پٹڑی سے اتار دیا ہے۔
آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ ہمیں رد عمل کو پسپا کرنے کے لیے خود کے دفاع میں کارروائیاں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ جنگ بندی کی مدت کے دوران "مکمل جنگ بندی" کے لیے پرعزم ہے۔
حکمران فوج اور آر ایس ایف کے درمیان لڑائی میں کم از کم 350 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اس لڑائی نے سوڈان میں جمہوریت کی طرف پیش قدمی کی امیدوں کو ختم کر دیا ہے۔ سوڈان کے پڑوسیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے کہ یہ ملک روس اور امریکہ کے درمیان علاقائی مقابلے کا میدان بن سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یواین ایچ سی آر اور ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ سوڈان کے ہمسائے چاڈ کے اندر سرحد کے ساتھ واقع دیہاتوں میں تقریباً 10 ہزار سے 20 ہزار افراد نے پناہ لی ہے۔
یاد رہے لڑائی سے قبل بھی سوڈان کے تقریباً ایک چوتھائی لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا تھا۔ اب لڑائی کے تناظر میں ڈبلیو ایف پی نے ملک میں اپنے سب سے بڑے عالمی آپریشنز میں سے ایک کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں