سوڈان کا المیہ اور انسانی ہمدردی کی حیرت انگیز مثالیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سوڈان میں جاری پر تشدد المیے سے جہاں درجنوں خاندان اپنے پیاروں کو کھودینے کے غم سے نڈھال ہیں، وہیں متعدد شہری انسانیت کی بڑی مثالیں قائم کرتے ہوئے پریشانی میں مبتلا اپنے ہم وطنوں کی دلجوئی اور امداد کے لیے کوشاں ہیں۔

سوڈانی فوج اور نیم سرکاری فوجی گروپ کے درمیان جاری لڑائی سے پیدا ہونے غیر معمولی ہنگامی حالات میں لوگ بنا کسی ادارے یا حکومتی مدد کے انتظار کے اپنے لوگوں کے لیے مددگار بن کر قربانی اور ایثار جیسی اعلی انسانی اقدار کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اقدار اور اعلی اصول نئے نہیں بلکہ سوڈانی ثقافت اور روایات کا حصہ ہیں۔ جس کا مظاہرہ ماضی میں بھی کئی بار نظر آیا ہے۔

سوڈان میں انسانی بنیادی ضرویات خوراک اور پانی کا بحران
سوڈان میں انسانی بنیادی ضرویات خوراک اور پانی کا بحران

تنازعے کے آغاز ہی سے، سوشل میڈیا پر فعال نوجوانوں نے پچھلے کچھ دنوں میں درجنوں "ہیش ٹیگز" میں لوگوں سے مدد کی درخواست کی ہے۔ اسی طرح لڑائی سے متاثرہ علاقے میں پھنسے افراد کے لیے، ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی ضروریات جیسے کہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنا، خوراک اور دوائی کی اپیل کی گئی۔ سوشل میڈیا پر نوجوان محفوظ شاہراؤں اور راستوں کی صورتحال کے بارے میں بھی رہنائی دیتے رہے۔

انسانی ہمدردی کی ایک مثال

ایک عینی شاہد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بیان کیا کہ دارالحکومت خرطوم کے علاقے ، "ام درمان" میں ایک یونیورسٹی کی بس طالبات کو چھٹی کے بعد گھر لے جانے کے دوران ہنگاموں میں پھنس گئی۔ بمباری سے بچنے کے لیے بس ڈرائیور نے محفوظ جگہ بس روک کر کچھ دیر لڑائی رکنے کا انتظار کیا تاہم ہنگاموں میں شدت کے بعد اس نے سفر دوبارہ شروع کر دیا جو کہ خطرات سے خالی نہیں تھا۔

لیکن اس دوران قریب ہی رہائش پزیر ایک خاندان نے دہشت زدہ طالبات کو اپنے گھر پر پناہ دینے کی پیش کش کی۔ عینی شاہد کے مطابق طالبات چند روز تک اس مکان میں رہیں جہاں اہل خانہ نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور مہمان نوازی کی۔ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔

اسی طرح کے درجنوں مثالیں اور بھی ہیں جہاں شہریوں نے سرکاری مدد آنے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اپنی مدد آپ کے تحت بحران کا مقابلہ کیا۔

سڑک کنارے مدد
سڑک کنارے مدد

اپنے ذاتی پیج کو امدادی پیج میں تبدیل کریں

اس دوران فیس بک اور ٹوئٹر جیسے وسیع سوشل نیٹ ورک پر متعدد ہیش ٹیگز چھائے رہے، جن میں خاص طور پر "جنگ بند کرو" ، "محفوظ راستے" ، "آپ نے کیسے سفر کیا"، "اپنے ذاتی پیج کو امدادی میں تبدیل پیج میں تبدیل کریں"، "سوڈان کے ہسپتال جل رہے ہیں"، اور "شہریوں کا انخلا" شامل تھے۔

اس طرح واٹس ایپ پر بھی درجنوں گروپس بھی بنائے گئے، جن میں سے سبھی فوجی تصادم کے بعد کی مشکلات جیسے کہ بجلی کی بندش، پینے کے پانی کی کمی، فارمیسیوں، ادویات ، طبی سہولیات کی کمی، اور مریضوں کے لیے ہسپتالوں اور طبی مراکز تک رسائی میں دشواری سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کی راہنمائی کر رہے ہیں۔

آپ نے سفر کیسے کیا؟

بدھ سے، "میں نے کیسے سفر کیا" ہیش ٹیگ عام ہے ۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت لوگ خرطوم سے دیگر علاقوں تک سفر اور شہر سے بحفاظت نکلنے کا تجربہ شیئر کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ خرطوم کے بہت سے شہری ہر سال عید کی تعطیلات میں اپنے خاندانوں کے ساتھ عید گزارنے کے لیے مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

دوسری طرف، خرطوم سے ملحق ریاستوں اور علاقوں نے جنگ کے شدید جہنم سے فرار ہونے والے شہریوں اور قافلوں کا استقبال کرنے کے لیے خود کو تیار کیا۔

پھنسے ہوئے افراد کو نکالنا اور زخمیوں کی مدد کرنا

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے رضاکار کارکن رانیہ العونی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس وقت رضاکار ٹیموں کے سامنے بہت سے چیلنج ہیں۔ صورت حال کے بگاڑ کے ساتھ ہی مصیبت میں پھنسے ہوئے شہریوں کو نکالنے کے لیے بے شمار اپیلیں کی گئی ہیں، خاص طور پر بورڈنگ اسکولوں میں پھنسے طلبہ اور طالبات کے حوالے سے، زخمیوں کو اسپتالوں میں پہنچانے کے لیےایمبولینس کے ساتھ ساتھ، مصیبت زدہ افراد کے لیے امداد کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔

انہوں نے مشکلات پر کیسے قابو پایا؟

جہاں تک امدادی کاروائیوں کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کا تعلق ہے، رانیہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ نقل و حمل کے لیے ایندھن کی کم سب سے بڑی رکاوٹ تھی، تاہم اس پر قابو پالیا گیا۔

انہوں نے کہا، "ہم پھنسے ہوئے لوگوں سے، چاہے وہ عام شہری ہوں یا طالب علم، انتہائی احتیاط کے ساتھ، پرامن حالات، اور فائرنگ اور بمباری کے رکنے کی یقین کے بعد، اپنی جگہوں سے نکلنے کو کہتے ہیں۔ جب تک وہ محفوظ طریقے سے پناہ گاہوں تک نہ پہنچ جائیں انہیں مخصوص مقامات اور محفوظ راستوں کی رہنمائی کی جاتی ہے۔"

جہاں تک ادویات اور طبی ادویات کی کمی کا تعلق ہے، ہم نے جغرافیائی طور پر ان فارمیسیوں کو تقسیم کر دیا ہے جن کے ساتھ ہم کام کرتے ہیں۔ اطلاع موصول ہونے کے بعد درخواست کرنے والے شخص کا پتا دریافت کی جاتا ہے، جس کے بعد اسے قریب ترین فارمیسی میں بھیجا جاتا ہے جہاں مطلوبہ دوا دستیاب ہے۔

بینر
بینر

رہائشی علاقوں میں پانی کی بندش ایک بڑا بحران تھا- اور اس کے حل کے لیے ہم نے ان علاقوں کی تلاش شروع کی جہاں پانی دستیاب ہے اور اس کے بارے میں مسلسل پوسٹ کرتے رہے۔

یہ بہت مشکل اور پرخطر تھا، کیونکہ رضاکاروں ٹیموں کو مسلسل گولیوں ، میزائلوں اور جنگی طیاروں کے حملوں کی وجہ سے خوفناک دباؤ کا سامنا ہے، تاہم ، وہ دن رات لوگوں کی مدد میں لگے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں