مشہور برطانوی ماہر ماحولیات جوڑا بے دردی سے قتل، لاشیں مگرمچھوں کے آگے ڈال دی گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جنوبی افریقا میں ماحولیات کے لیے کام کرنے والے ایک برطانوی میاں بیوی کو تین ملزمان نے بے دردی کےساتھ قتل کردیا۔

برطانوی جوڑے کی زندگی ایک خوفناک انداز میں ختم ہوئی اور ان کی کہانی برطانیہ میں رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بی ہوئی ہے۔ وہ ملک کے مشہور ترین نباتات اور ماحولیات کے سائنسدانوں میں سے ہیں اور وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کا قتل ایک سوچا سمجھا جرم تھا اور لاشوں کو مگرمچھوں کے ذریعہ ہزاروں کلومیٹر دور دریا میں پھینک دیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار ’میٹرو‘ کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ کی تفصیلات العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطالعےسے گذری ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک برطانوی شخص اور اس کی بیوی کو جنوبی افریقہ میں قتل کر دیا گیا اور جلد ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ تین افراد کی جانب سے کیے گئے ایک سوچے سمجھے جرم کا شکار تھے۔ قتل کی سازش میں دہشت گرد تنظیم "داعش" کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ جرم کے مرتکب افراد نے میاں بیوی کے کریڈٹ کارڈز چرائے اور ان میں رقوم خرچ کیں۔ حملہ آوروں نے ان کے کریڈٹ کارڈز سے تقریباً46 ہزار امریکی ڈالر کے برابر رقم حاصل کی۔

معلوم ہوا کہ یہ جوڑہ عالمی شہرت یافتہ ماہر نباتات 74 سالہ راڈ سینڈرز اور ان کی اہلیہ 63 سالہ ریچل پر مشتمل تھا۔ انہوں نے حال ہی میں برطانوی بی بی سی کے ساتھ ٹیلی ویژن انٹرویو کی ریکارڈنگ مکمل کی تھی۔ اس کے بعد ان پر جنوبی افریقہ کے ایک دور دراز جنگل میں گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔ جہاں انہیں قتل کر دیا گیا۔انہیں تین لوگوں نے مار مار کر ہلاک کر دیا جنہوں نے ان سے کریڈٹ کارڈز چرائے اور پھر ان کی لاشوں کو دن کے وقت مگرمچھوں کے آگے پھینک دیاگیا۔ جنوبی افریقا کے حکام کا خیال ہے کہ تینوں افراد کا تعلق داعش سے ہے۔

راڈ سینڈرز اور ان کی اہلیہ ریچل

جنوبی افریقہ کی ایک عدالت نے جرم کے کیس کی سماعت کی کیونکہ جوڑے کی لاشوں کو مگرمچھوں کے پاس پھینک دیا گیا تھا۔ انہیں تین افراد نے پیٹ پیٹ کر جان سے مار ڈالا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ تینوں مدعا علیہان نے دونوں متاثرین کی لاشوں کو تھیلوں میں ڈال کر ایک پل سے ایک ایسے دریا میں پھینک دیا تھا جس میں مگرمچھ پائے جاتےہیں۔پھر ان کے کریڈٹ کارڈز پر 37,000 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈز نکال لیے۔

کوازولو ناتال صوبے میں ہونے والے مقدمے کی سماعت میں وحشیانہ قتل اور چوری کے الزامات کی دفعات کے تحت ایف آئی آردرج کی گئی ہے۔ ملزمان میں 41 سالہ سیف الدین اسلم دیل ویکیو، اس کی بیوی 30 سالہ بی بی فاطمہ پٹیل کے علاوہ 35 سالہ موسیٰ احمد جیکسن شامل ہیں۔

دونوں مقتولین کی لاشیں اس جرم کے چند دن بعد مغربی جنوبی افریقہ میں دریائے توگیلا سے ملی تھیں، تاہم ان کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ہوئی۔

کورونر نے عدالت کو بتایا کہ لاشوں کے معائنے میں "کچھ سرگرمی" کے ثبوت ملے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لاشوں کو پہنچنے والے نقصان سے یہ ظاہر ہوتا ہے انہیں کسی نے خوراک کے طور پر استعمال کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مگرمچھ ان کی لاشوں کو کھا رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں